عدالتی لوریاں!

112

کبھی کبھی تو یہ سوچ کر دل ڈوبنے لگتا ہے کہ ہمارے نظام عدل کا مقصد کیا ہے؟۔ یہ انصاف فراہم کرنے کے بجائے انصاف کی فراہمی میں رکاوٹیں کیوں کھڑی کرتا ہے؟ کہتے ہیں انصاف اندھا ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں انصاف فراہم کرنے والا اندھا ہوتا ہے۔ چند دن قبل ایک سبزی فروش کو کسی جرم میں پانچ دن کی سزا سنائی گئی، اس نے سزا کے خلاف اپیل دائر کردی، جس کی سماعت پانچ ماہ تک چلتی رہی اور جب وکیل نے جج کی توجہ اس جانب مبذول کرائی تو عدالت نے معذرت کے بعد مقدمہ داخل دفتر کردیا۔ سوال یہ ہے کہ پانچ دن کی سزا کے خلاف کی جانے والی اپیل کی سماعت پانچ ماہ تک کیوں ہوتی رہی۔ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ جج صاحب کی معذرت سے اپیل کنندہ کی ذہنی اذیت اور مالی نقصان کا ازالہ کیسے ہوگا؟۔ چند برس قبل بہاولپور سول کورٹ میں ایک عورت نے مقدمہ دائر کیا اور مطالبہ کیا کہ اس کی سوکن نے اس کے مرحوم شوہر کا مکان فروخت کردیا ہے جس کے باعث اس کی حق تلفی ہوئی ہے، مکان رہائش کے لیے دیا گیا تھا فروخت کرنے کے لیے نہیں۔ مقدمہ پانچ سال تک زیر سماعت رہا۔ اس عرصے میں مدعیہ ایک بار بھی پیشی پر نہ آئی، غلط پتا لکھوانے کے باعث سمن کی تعمیل ہی نہ ہوسکی، مدعیہ علیہ اور گواہان ہر پیشی پر التجا کرتے رہے کہ عدم پیروی کی بنیاد پر مقدمہ خارج کیا جائے مگر جج صاحبہ پیشی پیشی کھیلتی رہیں اور جب محترمہ کا تبادلہ ہوا تو مقدمہ خارج کردیا گیا۔ مقدمے کے دوران پیشیوں اور رسوائی کے باعث مدعیہ علیہ پر دل کا دورہ پڑا اور وہ اللہ کی عدالت میں پیش ہوگئی۔ اس حقیقت سے انکار ممکن ہی نہیں کہ اس ناگہانی موت کا اصل ذمے دار جج تھا اس نے بغیر تحقیق کے مدعیہ کو طلب کیا تھا۔
ملائیشیا کی عدالت نے ملزم کو سزائے موت سنائی، عمل درآمد اس لیے نہ ہوسکا کہ فائل غلطی سے داخل دفتر ہوگئی، ملزم کا وکیل مناسب وقت کا انتظار
کرتا رہا۔ آٹھ سال بعد وکیل نے مقدمہ دوبارہ کھلوایا اور کہا کہ ملزم اپنے جرم کی سزا بھگت چکا ہے کیوں کہ ملزم کو آٹھ سال قید یا سزائے موت ہوسکتی تھی، ملزم آٹھ سال کی قید کاٹ چکا سو، اسے رہا کیا جائے۔ عدالت نے وکیل کی دلیل سے اتفاق کیا اور ملزم کو رہا کردیا۔ سوال یہ ہے کہ ہماری عدالت نے پانچ دن کی سزا پانے والے ملزم کی اپیل پانچ ماہ تک جاری رکھی، اگر وکیل اس جانب توجہ مبذول نہ کراتا تو اپیل در اپیل کا ابلیسی چکر بھی ممکن تھا۔ عدالت نے اس غفلت کی معذرت کرلی مگر ملزم کو جو ذہنی اذیت، مالی نقصان اور جو ہراسانی ہوئی اس کا ازالہ کون کرے گا؟۔ نظام عدل کے چودھری بڑے فخر سے ای کورٹ کا تذکرہ کررہے ہیں ان کے کہنے کے مطابق یہ نظام پہلی بار پاکستان میں متعارف کرایا گیا ہے اس نظام کی بدولت سائلین کا وقت اور پیسا بچے گا اور انصاف بھی بروقت ملے گا۔ سوال یہ ہے کہ دیگر ممالک میں انصاف کی فوری فراہمی عدلیہ کی بنیادی اور اولین ذمے داری ہے اور اس ذمے داری کو احسن طریقے سے نبھانے کی روایت بھی موجود ہے سو، انہیں ای کورٹ کی ضرورت ہی نہیں۔ اگر ہمارا نظام عدل ان کی طرح فعال اور متحرک ہوجائے تو ای کورٹ کی ضرورت نہ رہے گی۔ شاید ہمارا قومی المیہ یہی ہے کہ وطن عزیز میں نان ایشوز کو فوقیت دی جاتی ہے کیوں کہ یہ مسائل ذرائع ابلاغ کی زینت بن کر ان کی شہرت کا سبب بنتے ہیں۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ ای کورٹ کے باعث جعلی مقدمات اور نسل در نسل چلنے والے مقدمات سے نجات مل جائے گی۔ اعلیٰ عدالتوں میں 1912 کے مقدمات ہی کی سماعت ہورہی ہے اور ان میں اکثریت ایسے مقدمات کی ہے جنہیں سول کورٹ، سیشن کورٹ عدم ثبوت کی بنیاد پر خارج کر چکی ہیں۔ غور طلب امر یہ ہے کہ جن مقدمات کو چھوٹی عدالتیں بے بنیاد قرار دے چکی ہیں، ہائی کورٹ سے انہیں گود کیوں لیا ہوا ہے۔ حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ جب ہائی کورٹ ایسے بے بنیاد مقدمات کی چوما چاٹی سے اُکتا جائے گی تو عدالت عظمیٰ انہیں لوریاں سنانے لگے گی۔