نمک سے نمک حرامی نہ کریں

168

کرکٹ ورلڈ کپ میں بھارت سے شکست پر یوں تو بہت سی باتیں بنائی جارہی ہیں مگر ہمیں ایک تجزیہ کار کا تبصرہ بہت پسند آیا۔ وہ فرماتے ہیں گرچہ کرکٹ ایک میدانی کھیل ہے مگر پاکستان اور بھارت کے درمیان مقابلے میں اس کی نوعیت ایک جنگ کی ہوتی ہے۔ جب تک ہم ایک فوجی کی طرح بھارت کو اپنا دشمن سمجھ کر نہیں کھیلیں گے فتح نہیں پاسکتے۔ بھارت سے کسی بھی سطح پر مقابلے کے لیے ہمیں فوجی جذبہ چاہیے۔ بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے اور وہ کوئی بھی ایسا موقع ضائع نہیں کرتا جس سے پاکستان کی بدنامی ہو یا عوام کا نقصان۔ کبھی وہ پانی روک کر ہماری لہلہاتی فصلوں کر مرجھا دیتا ہے تو کبھی سیلاب کی سی صورتِ حال پیدا کردیتا ہے۔ پانی کو کنٹرول کرنے کے لیے ڈیمز بناتا جارہا ہے اور ہم اتنے فراخ دل ہیں کہ دل و جان سے چاہتے ہیں بھارت کو فائدہ پہنچے، چاہے ملک کا نقصان ہو، اب یہ اور بات ہے کہ یہ فیصلہ کسی ایک شخص کا ہو یا کسی ٹولے کا۔ مگر اس وقت بحیثیت پاکستانی دکھ ہوتا ہے جب کسی شخص یا ٹولے کی کارکردگی سے بھارت کو فائدے کے ساتھ اپنے ملک کو نقصان ہورہا ہو۔
سوشل میڈیا پر عوام نہ صرف اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں بلکہ بعض حیران کن واقعات بھی علم میں آتے ہیں۔ اس ذرائع سے کھیوڑہ کی کانوں سے برآمد ہونے والے گلابی نمک (پنک سالٹ) کی ارزاں نرخوں پر بھارت کو فروخت کے خلاف مہم جاری ہے۔ اب سوشل میڈیا کے ذریعے یہ بات علم میں آئی ہے کہ وہ نمک جو ہمارے بازاروں میں پتھر کی شکل میں بیس سے پچیس روپے فی کلو فروخت ہورہا ہے وہ ہم صرف 35 پیسے فی کلو فروخت کررہے ہیں وہ بھی بھارت کو اور یہ سلسلہ برس ہا برس سے جاری و ساری ہے اور حیران کن امر یہ ہے کہ بھارت ہم سے 35 پیسے فی کلو خرید کر یورپی ممالک کو 19 یورو (تقریباً 3175 روپے) میں فروخت کررہا ہے۔
بھارت کو یہ سہولت پہنچانے میں کون سے عوامل اور غدارانِ وطن شامل ہیں اس سے نقاب کشائی کی ضرورت ہے۔ کھیوڑہ سے برآمد شدہ نمک کی خاصیت یہ ہے کہ بیرون ممالک میں کھیوڑہ کے حوالے سے ہی فروخت ہورہا ہے مگر نہ اس میں پاکستان (میڈ اِن پاکستان) کا ذِکر ہے اور نہ پاکستان کو فائدہ ہورہا ہے۔ کھیوڑہ کی کانوں سے برآمد ہونے والے اس پنک سالٹ کے ملکی استعمال کا یہ عالم ہے کہ سالانہ 3,70,000 ٹن نکالا جارہا ہے اور اس میں سے تقریباً 2 لاکھ ٹن آئی سی آئی کو جاتا ہے، آئی سی آئی ایک پاکستانی کمپنی ہے جس کا مالک محمد یونس بھٹہ ہیں۔ یونس گروپ آف انڈسٹریز کے 7 یونٹ ملک میں کام کررہے ہیں۔ نمک تو نمک ان کانوں سے رسنے والا پانی جس کو برائن سلوشن کہا جاتا ہے بڑا قیمتی ہے اور ہم اس سے بھی زرمبادلہ کماسکتے ہیں مگر افسوس یہ پانی آئی سی آئی مفت میں لے جاتا ہے۔ اس کا استعمال ڈیٹرجینٹ اور واشنگ سوڈا کی تیاری میں ہوتا ہے۔ بھارت میں یہ پانی پٹرول سے بھی مہنگا ہے اور ہم اس کو بھی یہ پانی مفت ہی دے رہے ہیں۔ نمک کے اس پانی میں مختلف کیمیائی اجزا شامل ہوتے ہیں۔ آئی سی آئی نے کھیوڑہ میں ایک یارڈ تعمیر کر رکھا ہے جہاں سے پائپ لائنوں کے ذریعے مختلف کارخانوں میں پہنچایا جارہا ہے۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ بحیثیت ایک قرض دار قوم معدنی ذخائر برآمدات سے زرمبادلہ کمانے کے بجائے دیگر ممالک کو مفت یا واجبی قیمت پر فروخت کرتے ہیں اور وہ اس سے اربوں کا زرمبادلہ کما رہے ہیں اور پھر نمک تو نمک اس کی کانوں سے رسنے والا محلول بھی مفت ہی دے رہے ہیں۔ یعنی رسی کے ساتھ بھینس فری۔ اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ہمارے نئے سائنس داں جناب فواد چودھری نے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ جو بھی اس کاروبار میں فریق ہے ملک و قوم کا وفادار نہیں اور اگر وفادار ہوتا تو یہ ہمارے ملک کے نمک کا سودا نہ کرتا۔ نمک کی ارزاں فروخت اور اس کے محلول کی مفت فراہمی کرنے والے افراد نمک حرام ہی ہوسکتے ہیں۔ہماری ایک خاتون سیاست داں جو اس وقت نواز لیگ کی طرف سے پنجاب اسمبلی کی رکن بھی ہیں اسی یونس گروپ آف انڈسٹریز میں ایک اہم عہدے پر فائز ہیں، اب جس کاروبار میں عوام کے نمائندے شریک ہوں تو اس کاروبار کو تو پھلنا پھولنا ہی ہے، ملک جائے بھاڑ میں، ایسے افراد کو بھی بے نقاب کرکے نشان عبرت بنایا جائے۔