نیول وار کالج خودکش دھماکوں میں ملوث ملزم عدم شواہد پر بری

112

سپریم کورٹ نے نیول وار کالج خودکش دھماکوں میں ملوث عمر قید کے ملزم ندیم حسین کو عدم شواہد پر شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جمعرات کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین بینچ نے نیول وار کالج خودکش دھماکوں میں ملوث عمر قید کی ملزم کی سزا کےخلاف اپیل پر سماعت کی۔

دوران سماعت وکیل نے عدالت کو بتایا کہ دوہزار آٹھ میں پاکستان نیول وار کالج لاہور کے باہر دو خودکش دہماکے ہوئے، دھماکے میں تین افراد جاں بحق جبکہ اٹھارہ زخمی ہوئے تھے۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اتنا بڑا واقعہ ہوا لیکن کوئی ثبوت ہی نہیں ہے،آپ کہہ رہے ہیں کہ ملزم کی دکان تھی جہاں دو نامعلوم افراد کوجیکٹس دی گئیں،آپ کی ساری شہادتیں مان بھی لیں تو لگتا ہے کہ ملزم کی دکان استعمال ہوئی جبکہ وہ موجودہی نہیں تھا،ایسا لگ رہا ہے کہ ملزم کو اس کیس میں گھسیٹا گیا ہے،ملزم کا نام ایف آئی آر میں بھی موجود نہیں تھا۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ افسوس کہ نچلی عدالتوں نے یہ چیزیں کیوں نہیں دیکھیں،ہائی کورٹ اتنی بڑی عدالت ہے اس نے بہی شواہد کو نہیں دیکھا۔

بعد ازاں عدالت نے عدم شواہد پرشک کا فائدہ دیتے ہوئے ملزم کو بری کرنے کا حکم دیا۔اس سے قبل ٹرائل کورٹ نے ملزم ندیم حسین کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جبکہ ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا،ملزم نے ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔