کنٹینر والے پارلیمان کے اندر سے جمہوریت پر حملے کررہے ہیں،بلاول

90
اسلام آباد: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں
اسلام آباد: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ کنٹینروالے پارلیمان کے اندرسے جمہوریت پرحملے کررہے ہیں، قائمہ کمیٹیوں کی کارروائی کے بغیر پارلیمنٹ نا مکمل ہے، سینیٹ کی قائمہ کمیٹیاں چل رہی ہیں جبکہ قومی اسمبلی کی ختم کردی ہیں، قانون کے تحت قائمہ کمیٹیوں پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی، تحریک انصاف ایسے اقدامات کر رہی ہے جو کسی آمر نے بھی نہیں کیے ،ا سپیکر کو فوری طور پر فیصلہ واپس لینا چاہیے،حکومت جمہوریت پسندوں کو جذباتی اقدامات اٹھانے اور انارکی کی طرف جانے پر مجبور کر رہی ہے،احسان اللہ احسان،کل بھوشن یادیو،بھارتی پائلٹ ابھی نندن اور پرویز مشرف غدار کا انٹرویو چل سکتا ہے لیکن سابق صدرمملکت آصف علی زرداری کا میڈیا پر انٹرویو کیوں نہیں چل سکتا،آج میڈیاآزاد نہیں ہے، پریس سینسر شپ بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول زرداری نے کہا کہ قائمہ کمیٹیوں کے بغیرپارلیمان نامکمل ہے،کفایت شعاری کے بہانے کام کرنے سے روکا جارہا ہے، اگرقومی اسمبلی کی کمیٹیوں کوختم کرتے ہیں توخرچہ زیادہ ہوگا کم نہیں،قائمہ کمیٹیوں کا اجلاس ایوان کے اجلاس سے مشروط کرنا پارلیمان پرحملہ ہے، یہ بہانہ کیسے بنتا ہے جس سے آپ ہمیں کام سے روک رہے ہیں۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ کنٹینروالے پارلیمان کے اندر سے پارلیمان پرحملے کررہے ہیں، ہمارے جمہوری راستے بند کیے جارہے ہیں، قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس منسوخ کرنا پارلیمان پرحملہ ہے، آج جب کمیٹیوں کے اجلاس سے متعلق نوٹی فکیشن جاری ہوا تواسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر دونوں ہی بیرون ملک ہیں۔بلاول زرداری نے کہا کہ ہماری رائے مختلف ہوسکتی ہے لیکن پارلیمان کو استعمال کرکے ملک کے مفاد میں ایک رائے پرپہنچا جاسکتا ہے، ارکان کو کمیٹیوں میں اس بل کی تیاری کرنا ہوتی ہے جو ایوان میں پیش کیے جاتے ہیں، قواعد کے مطابق اسپیکر قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس پر پابندی نہیں لگاسکتے،حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ ملک اور پارلیمان کو چلانا کوئی کرکٹ میچ نہیں،جمہوری راستے بند کریں گے تو سنگین اثرات مرتب ہوں گے،آزادی صحافت پر پہلے بھی بات کرتے رہے ہیں،اب بھی کریں گے، ان فاشسٹ حکومت میں ہمارے پاس آزاد میڈیا نہیں ہے، چینلز کو بغیر نوٹس دیے بند کردیا گیا ہے جو قابل مذمت ہے،صحافی کو ٹوئٹ بھی نہیں کر سکتے،اگر کریں گے تو اکائونٹ کو بند کر دیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ قائد اعظم نے کیااس لیے ملک بنایا تھا کہ ہم بول بھی نہیں سکتے،اظہار رائے کی آزادی ہمارا بنیادی حق ہے،اس کے لیے ہم لڑیں گے، اپوزیشن رہبر کمیٹی کے فیصلے پر سینیٹ میں چیئرمین کی تبدیلی کے لیے قرار داد جمع کرا دی گئی ہے،بہتر یہ ہو گا کہ چیئرمین خود استعفا دے دیں،اس حکومت نے ہر طبقے کا جیناحرام کر دیاہے،حکومت آئی ایم ایف کے سامنے جھک گئی ہے، پیپلزپارٹی مہنگائی کے خلاف نکلے گی۔