قومی بجٹ آئی ایم ایف کے ایجنڈے کی تشریح ہے، لیاقت بلوچ

50

لاہور(نمائندہ جسارت) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اور سیاسی امور کمیٹی کے صدر لیاقت بلوچ نے منصورہ میں ملی یکجہتی کونسل کے سربراہی اجلاس کے حوالے سے کارکنان کی میٹنگ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ قومی بجٹ آئی ایم ایف کے ایجنڈے ، شرائط اور ہدایات کی تشریح ہے ۔ پاکستان کو اقتصادی اعتبار سے مفلوج کرنا اور 22 کروڑ عوام کا خون چوسنا ہی عالمی استعماری مالیاتی اداروں کا ہدف ہے ۔ آئی ایم ایف ، ورلڈبینک اور غربت مسلط کرنے والے اداروں سے نجات کے لیے خود انحصاری اور قومی و انسانی وسائل پر انحصار کیا جائے ۔ خرچ کم اور ریونیو بڑھایا جائے ۔ سود کی لعنت ختم ہو جائے تو زکوٰۃ کے نفاذ سے قومی آمدن میں فوری و دگنا اضافہ ہوگا ۔عوام کا اعتماد بڑھنے سے معاشی استحکام آئے گا ۔ برآمدات کا ہدف 40 ارب ڈالر رکھا جائے اور اس مقصد کے لیے صنعت ، زراعت اور کاٹیج انڈسٹری کو خاص سہولت دی جائے ۔ احساس اور صحت پروگرام ناکارہ ہیںاس رقم کو وسائل بڑھانے کا ذریعہ بنایا جائے ۔ مڈل ایسٹ اور ایران سے تیل لینے کے لیے ادائیگی گندم ، چاول ، پھل ، سبزیوں کی صورت میں کرنے کے معاہدے کیے جائیں ۔ کپاس ، آم ، کینو مالٹا کی پیدوار بڑھانے کے اقدامات ہوں یہی بیرونی غلامی سے نجات کار استہ ہے ۔علاوہ ازیں لیاقت بلوچ نے مظفر آباد میں برہان وانی شہید کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ برہان وانی نے قافلہ شہدا کو نئی جدوجہد آزادی ، نوجوانوں کی زندگی کو نئے آہنگ اور ترنگ سے آشنا کیاہے ۔ کشمیری طویل مدت سے ہندو برہمن اور بھارتی فوج کے جبر کا مقابلہ اور لازوال قربانیاں دے رہے ہیں ۔کشمیریوں اور فلسطینیوں کے مجرم عالمی ادارے ،بھارت اور عالم اسلام کی قیادت ہے۔ کشمیری تھکے نہیں ان کاعزم بلند ہے ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت پاکستان اور قومی قیادت کیوں خوفزدہ ہے ، افغان عوام سے غیرت ، جرأت اور کشمیریوں سے استقامت سیکھے۔ انہوںنے کہاکہ امریکا طالبان سے مذاکرات کے لیے مجبور ہواہے، بھارت بھی کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کے لیے مجبور ہوگا ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت اور قومی قیادت مسلمہ قومی کشمیر پالیسی بنائے ۔