قال اللہ تعالی و قال رسول اللہ ﷺ

91

مریم نے کہا ’’میرے ہاں کیسے لڑکا ہوگا جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں ہے اور میں کوئی بدکار عورت نہیں ہوں‘‘۔ فرشتے نے کہا ’’ایسا ہی ہوگا، تیرا رب فرماتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لیے بہت آسان ہے اور ہم یہ اس لیے کریں گے کہ اْس لڑکے کو لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں اور اپنی طرف سے ایک رحمت اور یہ کام ہو کر رہنا ہے‘‘۔ مریم کو اس بچے کا حمل رہ گیا اور وہ اس حمل کو لیے ہوئے ایک دْور کے مقام پر چلی گئی۔ پھر زچگی کی تکلیف نے اْسے ایک کھْجور کے درخت کے نیچے پہنچا دیا وہ کہنے لگی ’’کاش میں اس سے پہلے ہی مر جاتی اور میرا نام و نشان نہ رہتا‘‘۔ فرشتے نے پائنتی سے اس کو پکار کر کہا’’غم نے کر تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ رواں کر دیا ہے۔ (سورۃ مریم:20تا 24)

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین صفات جس شخص میں پائی جائیں گی اس سے اللہ ربّ العزت ہلکا پھلکا حساب لیں گے اور اسے اپنی رحمت کے ذریعے جنت میں داخل فرمائیں گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا! اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون سی صفات ہیں ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کو نوازو جو تمہیں محروم کرے، اس سے ملو جو تم سے قطع تعلق کرے اور جو تم پر ظلم کرے اسے معاف کر دو جب تم یہ کام کرو گے جنت میں داخل ہو جائو گے۔ (مسند بزار مع کشف الاستاد، معجم کبیر از طبرانی)