مچھلی کے شکار پر پابندی لاکھوں ماہی گیر پریشان

63

کراچی(اسٹا ف رپورٹر)مچھلی کے شکار پر 2 ماہ جون اور جولائی میں پابندی کی وجہ سے کراچی کی 129 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی کی 150 سے زائد ماہی گیر بستیوں میں آباد لاکھوں ماہی گیر بھوک و بدحالی میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ کراچی کی ساحلی پٹی مبارک ولیج سے شروع ہوکر پھٹی کریک پر ختم ہوتی ہے، جہاں آباد لاکھوں ماہی گیر سمندر کا سینا چیر کر مچھلی کا شکار کر کے اپنے بھوکے بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں۔ سمندر سے ماہی گیر سالانہ 8 لاکھ میٹرک ٹن مچھلی کا شکار کر کے ملک کو 20 ارب روپے زرمبادلہ کے طور پر کما کر دے رہے ہیں۔ سمندر کی 17 کریکس میں موجود تمر کے گھنے جنگلات کی تیزی کٹائی کی وجہ سے جھینگے مچھلی کی نسل افزائش کے مقامات کو ختم کر کے ماحولیات کو تباہ کیا جارہا ہے، سمندری سے غیر فطری طریقہ کار اور حد سے زائد کاروباری بنیادوں پر مچھلی کے شکار کی وجہ سے 75 فی صد مچھلی کے ذخائر ختم ہوچکے ہیں۔ جبکہ ماہی گیروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہی صورتحال رہی تو 2045ء میں سمندر مچھلی کے خزانے سے مکمل طور خالی ہوجائے گا۔ اس سلسلے میں ابراہیم حیدری سے تعلق رکھنے والے ماہی گیروں ناخدا عرفان، ناخدا جاوید، ناخدا محمد رفیق، حسین، کریم بخش، شہزاد و دیگر نے بتایا کہ ماہی گیر انتہائی غربت اور محرومی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی کے ماہی گیروں کا سب سے بڑا مسئلہ ان کا روزگار ہے، عیدالاضحی قریب ہے اور ماہی گیر جون اور جولائی میں بیروزگاری کی وجہ سے عید کی خوشیوں سے محروم رہ جائیں گے، جبکہ مہنگائی اور روزگار کی قلت کی وجہ سے ان کے گھروں میں فاقہ کشی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور حکومت کسی طرح کی مدد کو تیار نہیں۔ اس موقع پر ماہی گیروں نے مطالبہ کیا کہ ماہی گیر بستیوں میں روزگار سمیت تعلیم، صحت اور پانی کی سہولیات مہیا کی جائیں، جبکہ قومی پائیدار فشریز پالیسی نافذ کر کے ماہی گیروں کے روزگار کو تحفظ فراہم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ فشریز کی طرف سے سمندر میں شکار کیلیے مختلف قانون، ٹیکس اور کاغذی دستاویزات کا جال بچھا کر ماہی گیروں کو پھنسایا گیا ہے، وہ جو بھی مچھلی شکار کرتے ہیں وہ سستے دام بیوپاری لے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی دن بہ دن آسمان سے باتیں کرنے لگی ہے، لیکن ماہی گیروں کو مچھلی کا 1980ء والا ریٹ دیا جارہا ہے، جس کی وجہ سے ماہی گیروں میں عدم تحفظ اور بے چینی کی لہر پھیل گئی ہے۔ اس کے علاوہ کناروں پر مچھلی کا شکار کرنے والے چھوٹے ماہی گیروں کو شہری فضلہ اور زہریلے مادے کو سمندر میں نکاس کر نے کے بعد بیروزگار کیا جارہا ہے، جس کی وجہ سے مچھلیاں کناروں کو چھوڑ کر گہرے سمندر کی طرف چلی گئی ہیں۔