اٹھارہ ہزار بڑے گیس چوروں کے نام عوام کے سامنے لائیں گے،بابر ندیم

199

کراچی(اسٹاف رپورٹر) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم بابر ندیم نے کہا ہے کہ پی پی ایل اور اوجی ڈی سی درست سمت سے ہٹ چکے تھے ،پچھلے چند سالوں میں پروڈکشن کیلئے کام نہیں کیا گیا ، ہمیں اپنی ڈومیسٹک پروڈکشن کو بڑھانا ہوگا ،ان کے مسائل حل کرینگے اور لائن آف ایکشن بھی دیں گے،پی پی ایل اور او جی ڈی سی کا تیل و گیس کی پیداوار میں سب سے بڑا حصہ ہے ، تیل و گیس کی قومی کمپنیوں کی ازسرنو بحالی کی جائے گی ،تیل و گیس کی مقامی پیداوار میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے ،حکومت تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں کو سپورٹ فراہم کرے گی ۔انہوں نے یہ بات جمعرات کو پی پی ایل آفس کے دورے میں گفتگو کے دوران کہی۔اس موقع پر ایم ڈی پی پی ایل معین رضا بھی موجود تھے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم بابر ندیم نے کہا کہ سابقہ حکومت نے نئے بلاکس شروع نہیں کیے ،جلد ہی بہت سے بلاکس میں تیل و گیس کی تلاش شروع کی جائے گی گیس کی پیداوار چار بی سی ایف سے کم ہوکر 3.7 بی سی ایف پر آگئی ،تیل وگیس تلاش کرنے والی بہت سی کمپنیاں چھوڑ کر چلی گئیں ۔انہوں نے کہا کہ تیل و گیس کی تلاش کی پالیسی میں کمپنیوں کی مشکلات کو ختم کرنے کے لیے تبدیلیاں کی جائیں گی ،کمپنیوں کو ریگولیشنز سے مسائل درپیش تھے ،چھ بنیادی تبدیلیاں کی جائیں گی اس کے فوری بعد 35 نئے بلاکس الاٹ کیے جائیں گے ،آئندہ ایک سال میں 35 نئے بلاکس نیلام کریں گے ۔انہوںنے کہا کہ تین سے چار غیرملکی کمپنیوں کو پاکستان واپس آنے پر راضی کرلیا ،ایک دو سے ایگری منٹ کرلیے ہیں۔یورپی کمپنی سے پاکستان میں گیس کی تلاش کے لیے معاہدہ ہوگا۔سمندر میں گیس تلاش کرنے والی امریکی کمپنی ایگزون مزید بلاکس لینے میں دلچسپی رکھتی ہے ،حکومت خود بھی سروے کرے گی نئے بلاکس کون سے ہیں جہاں گیس تلاش کی جائے ۔انہوںنے کہا کہ گیس کا شعبہ کئی سال سے فعال نہ تھا ،حکومت اس شعبہ کو فعال کرنے کے لیے پرعزم ہے ،اپریل میں گیس چوری کے خلاف مہم شروع کی ،مہم کو مزید تیز کیا جائے گا۔مہم کے دوران18000 سے زائد غیر قانونی کنکشن منقطع کیے گئے ،ڈھائی ارب روپے کی گیس چوری کی جارہی تھی،مہم کو پاور سیکٹر کی طرح تیز کریں گے ،جس سے سپلائی میں اضافہ ہوگا ،مقامی پیداوار بڑھاکر سپلائی میں اضافہ کریں گے ۔اس موقع پرایم ڈی پی پی ایل معین رضا نے بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ گیس کی پروڈکشن کو بڑھانا ہماری اولین ترجیح ہے گیس چوری پر قابو پانے کے لئے پلان تشکیل دے دیا ہے جبکہ پرانے اور خستہ لائنوں کی نشاندہی بھی کی جاچکی ہے۔جمعرات کو ایس ایس جی ہیڈ آفس کے دورے کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ندیم بابر نے کہا کہ کے الیکٹرک کو شنگھائی کے ساتھ معاہدے کے لئے حکومت پاکستان سے این او سی لینا ضروری ہے،کے الیکٹرک کی موجودہ انتظامیہ واجبات کی کلئیرنس تک نجکاری کا کوئی معاہدہ نہیں کر سکتی،ایس ایس جی سی اور کے الیٹرک کے درمیان واجبات کے لئے حکومت پاکستان کا طریقہ کارہے ، نجکاری حکومت پاکستان کے قوانین کے تحت واجبات کی ادائیگی سے مشروط ہے ،واجبا ت کی ادائیگی کے حل تک قوانین کے مطابق کے الیکٹرک فروخت نہیں ہو سکتی۔