درجات الیقین

202

علمَ الیقینِ علم کے اس درجے کا نام ہے جو کسی شخص کو کسی بات کے سننے، کسی دوسرے شخص کے بتلانے اور کسی بات میں غور اور قیاس کرنے سے حاصل ہو، پھر جب وہ اس چیز کا آنکھوں سے مشاہدہ اور معائنہ کرے گا تو اسے عَینَ الیَقین حاصل ہوجائے گا۔ اور جب دیکھنے کے بعد اسے چھوئے گا، اسے محسوس کرے گا، اسے چکھے گا اور اس کی حقیقت کو پہچان لے گا تو اسے حَقّ الیقین حاصل ہوجائے گا۔
پہلے درجے کے علم کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص کو کسی نے خبردی کہ فلاں جگہ شہد ہے تو اس نے خالی اس کی تصدیق، یا مکھیوں کا چھتا اور اسی قسم کے اور نشان کو دیکھا تو نتیجہ نکال لیا کہ وہاں شہد ہوگا۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ شہد والے چھتے کو دیکھ لے اور اس کا مشاہدہ اور معائنہ کرلے۔ یہ مقام پہلے سے اعلیٰ ہے جیسا کہ نبی اکرمؐ نے فرمایا: ’’جو شخص صرف کان سے سن لے، وہ اس کے برابر نہیں ہوسکتا جو آنکھ سے بھی دیکھ لے‘‘۔ تیسرے درجے کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص نے شہد کو چکھ لیا اور اس کے مزے اور شیرینی کو محسوس کیا۔ یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ یہ درجہ اپنے سے پہلے درجہ یعنی عین الیقینِ سے بڑھ کر ہے۔ اسی لیے اہل معرفت جب حَقُّ الیقینِ کا لفظ بولتے ہیں تو اس شوق اور وجد کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو انہیں حاصل ہوتا ہے۔ چنانچہ نبی اکرمؐ نے فرمایا: ’’جس شخص میں تین چیزیں ہوں اس نے ایمان کی حلاوت پالی: وہ شخص جو اللہ اور رسولؐ کو باقی تمام چیزوں سے بڑھ کر دوست رکھتا ہے۔ وہ شخص جس کسی شخص سے صرف اللہ کی خاطر دوستی رکھے۔ اور تیسرا وہ شخص جسے اللہ نے کفر سے نکال لیا اور وہ کفر میں لوٹ جانے کو ایسا بُرا جانتا ہو جس طرح آگ میں ڈالے جانے کو برا سمجھتا ہے۔ نیز فرمایا: اس شخص نے ایمان کا مزہ پالیا جو اللہ تعالیٰ کے رب ہونے، اسلام کے دین برحق ہونے اور محمدؐ کے رسول ہونے پر راضی ہوا‘‘۔ (رواہ مسلم، مشکوۃ: کتاب الایمان)
(ماخوذ از فتاویٰ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ، کتاب علم السلوک)