جعلی دستاویزات پرقرض لینے کے مجرم کو 7 کروڑ روپے جرمانہ

57

اسلام آباد (اے پی پی) عدالت عظمیٰ نے جعلی دستاویزات کے ذریعے بینک سے قرض لینے والے مجرم علی عباس ناصر کو 7 کروڑ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے ان کی باقی سزاختم کردی ہے اور قرار دیا ہے کہ اگردستاویزجعلی تھیں تو بینک والوں نے کس بنیاد پرملزم کوقرض دیا۔ بدھ کوچیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جس عمرعطابندیال اورجسٹس یحییٰ آفریدی پرمشتمل 3 رکنی بینچ نے
کیس کی سماعت کی ، اس موقع پرنیب کے پراسیکوٹرنے بتایا کہ2011 ء میں ٹرائل کورٹ نے ملزم علی عباس ناصر کو 4 سال قید اور 7 کروڑ جرمانہ کی سزا سنائی تھی، جس کیخلاف اپیل پر ہائی کورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کردی تھی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہاکہ سوال یہ ہے کہ اگر دستاویزات جعلی تھیں تو بینک والوں نے قرض کیسے دے دیا۔ پراسیکوٹر نیب نے بتایاکہ قرض دلانے میں بینک کے2 ملازمین بھی ملوث تھے،جس پرچیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت نے یہ دیکھنا ہے کہ جن دستاویزات پر قرض دیا گیا کیا وہ اصلی ہیں یا نہیں۔ ایک استفسار پر پراسیکوٹر نیب نے بتایاکہ بینک والوں نے تسلیم کیا ہے کہ ان سے اس معاملے میں غلطی ہوئی ہے۔ بعدازاں عدالت نے مجرمکو 7 کروڑ روپے جرمانہ ادا کرنے کاحکم جاری کرتے ہوئے اس کی باقی سزا ختم کردی اورکیس نمٹادیا۔
جعلی دستاویزات