وفاق کے تعاون کے بغیر کراچی کے مسائل حل نہیں ہونگے، مراد علی شاہ

84

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت K-4 منصوبے سے پیچھے ہٹ گئی، وزیراعظم نے کراچی کیلیے 162 بلین دینے کا وعدہ کیا تھا، جب تک وفاق ساتھ نہیں دے گا کراچی کے مسائل حل نہیں ہوں گے، شہر میں 400 سے 500 ایم جی ڈی پانی آتا ہے لیکن شہر کی ضرورت 1200 ایم جی ڈی ہے، سندھ حکومت کی تبدیلی پی ٹی آئی کا خواب ہے، جادو سے ہٹائیں گے تو ناکام ہوں گے، سینیٹ الیکشن میں ہارس
ٹریڈنگ نہیں کی، جس کو تجربہ نہیں تھا وہ ملک کا وزیراعظم بن گیا اب عوام پر تجربے کیے جا رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ناظم آباد میں الجامعۃ سیفیہ کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ مراد علی شاہ نے مدرسے میں زیر تعلیم بچوں سے ملاقات کی اور الجامعۃ سیفیہ انسٹیٹوٹ کا دورہ بھی کیا۔ اس کے بعد وزیراعلیٰ سندھ شہید ملت روڈ پر زیر تعمیر انڈر پاس کا جائزہ لینے پہنچے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے انڈر پاس کو اگست تک مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ اس موقع پر بھی انہوں نے میڈیا سے گفتگو کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کا ایک خواب تھا کہ وہ صوبائی حکومت میں تبدیلی لائیں مگر ان کا یہ خواب کبھی سچ ثابت نہیں ہوگا کیونکہ ان کی صوبائی اسمبلی میں عددی اکثریت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمیشہ جادوئی ٹرکس کے بارے میں بات کرتے رہے ہیں اور کھیلتے رہے ہیں، جس کے تحت انہوں نے مرکز میں حکومت بنائی ہے۔ مگر ان کی یہ جادوئی ٹرکس سندھ میں کام نہیں کرسکتیں۔ وفاقی حکومت سندھ حکومت کے خلاف سازش کر رہی ہے۔ انہوں نے حکومت کو باور کرایا کہ اگر آپ صوبوں کو کمزور کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ فیڈریشن کو کمزور کر رہے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ وہ شخص جسے حکومت کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور اسے سسٹم نے وزیراعظم بنا دیا ہے۔ طاقت کے نشے میں وزیراعظم نے پاکستان کے لوگوں پر تجربات شروع کردیے ہیں۔ وزیراعظم نے اپنے پہلے تجربے میں ملک میں تمام اشیا کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرتے ہوئے غریب لوگوں کے منہ سے نوالہ بھی چھین لیا ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ وزیراعظم ہر ایک کو چور اور ڈاکو سمجھ رہے ہیں مگر وہ یہ بات بھول گئے ہیں کہ انہوں نے بھی بذات خود نیب کیسز کا سامنا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کبھی بھی لوگوں پر دبائو ڈال کر حکومت نہیں کرسکتے اور نہ ہی ان کی آواز کچل سکتے ہیں، مگر آپ کو چاہیے کہ آپ ہر ایک کے ساتھ اچھے برتائو اور اچھے حکمران کے طور پر پیش آئیں۔ انہوں نے کہا کہ دھمکیوں اور دبائو کے ذریعے آپ لوگوں کو خاموش نہیں کراسکتے نہ ہی ان کے حقوق کیلیے بلند ہونے والی آواز کو روک سکتے ہیں۔ ن لیگی رہنما رانا ثنا کی گرفتاری سے متعلق سوال پر مراد علی شاہ نے گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے سیاسی انتقام سے حکومت کی ساکھ مزید متاثر ہوگی۔ وزیراعظم ایک ڈکٹیٹر کی طرح کا رول ادا کر رہے ہیں اور سیاسی لوگوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔