فیکٹریاں بند ،ہول سیلرز نے کپڑے کی پروسیسنگ، ڈائنگ بند کردی

552

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری سے وابستہ صنعتکاروں، مقامی کپڑے کے ہول سیلرز اور ریٹیلرز کا کاروبار نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ٹیکسٹائل پر زیرو ریٹنگ کی سہو لت ختم کئے جانے اور 17 اور 20فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ سے کاروبار ختم ہوکر رہ گیا ہے، فیکٹریاں بند گئی ہیں جبکہ ہول سیلرز نے فیکٹریوں میں کپڑے کی پروسیسنگ اور ڈائنگ کرانا بند کردی ہے۔ پروسیسنگ انڈسٹری مالکان سیلزٹیکس کی شرح کو 31جولائی تک موخر کرنے اورکپڑے کے تاجران نے فکسڈ ٹیکس کے نفاذ کا مطالبہ کردیا ہے ۔بدھ کو سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری میںآل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن کے ریجنل چیئرمین محمدعارف لاکھانی کی زیرصدارت ٹیکسٹائل کی پروسیسنگ صنعت کے ہنگامی اجلاس عام میں کے سی سی آئی کے سابق صدورزبیرموتی والا،یونس بشیر، پاکستان ہوزری مینوفیکچررزاینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین جاوید بلوانی،اپٹپماکے سابق چیئرمین اقبال لاکھانی،چوہدری ذوالفقار، محمداشرف، اقبال عربی،امجدجلیل،سائٹ ایسوسی ایشن کے قائمقام صدر نوید واحد،اولڈ سٹی تاجراتحاد کے چیئرمین ایس ایم عالم،لطیف کلاتھ مارکیٹ کے صدرشاہدودود،رضوان امین،ویونگ سیکٹر کے نمائندے جمیل شمسی، سکندر عمران، انورعزیز بالا گام والا، سلیم نگریابھی موجود تھے۔ ٹیکسٹائل پروسیسنگ ایسوسی ایشن کے اجلاس عام میں ایک قراردادبھی متفقہ طور پر منظور کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت شناختی کارڈ کی طرز پرسیلزٹیکس کے نفاذ کو بھی31 جولائی تک موخرکرے، ایس آراو1125 اور زیروریٹنگ کو 31 جولائی تک جاری رکھاجائے،31 جولائی تک ڈائینگ ویونگ ،ہول سیلر،ریٹیلرزکی مشاورت سیلزٹیکس مسائل کاحل نکالاجائے۔اجلاس میں عالف لاکھانی نے کہا کہ حکومت نے یکمشت زیروریٹنگ ختم کرکے رجسٹرڈ پر17اور غیررجسٹرڈ پر20فیصد ٹیکس کا نفاذ کیا ہے جس پر تمام اسٹیک ہولڈرزکو تحفظات ہیں،ہمارے کسٹمرز نے فیکٹریوں میں کام کرانا بند کردیا ہے ،ہم ہڑتال پر نہیں ہیں مگر کام بند ہونے سے تمام پروسیسنگ انڈسٹریز بند ہوگئی ہیں اور مزدور طبقہ بے روزگار ہوگیا ہے اور سارا نظام منجمد ہوکر رہ گیا ہے،یکدم40 فیصد پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے جوکوئی صنعت جذب نہیں کرسکتی ہے۔زبیرموتی والا نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 17تا20 فیصدسیلزٹیکس،گیس ٹیرف میں31فیصد اضافہ،بجلی کے ٹیرف میں اضافہ، یوٹیلٹی بل اور روپے کی قدر میں کمی جیسے مسائل کا ہمیں سامنا ہے، یکدم ٹیکسوں میں اضافے سے کاروبار کرنا ناممکن ہوگیا ہے، آج تیسرا دن ہے کہ پروسیسنگ انڈسٹری بند ہے۔ انہوں نے حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اگر زیروریٹنگ سیکٹرپرسیلزٹیکس برقرار رکھاگیاتو برآمدات میں30 فیصد کمی واقع ہوگی،کسی بھی صنعت کا منافع4فیصد سے زائد نہیں ہوتاہے۔ زبیرموتی والا نے کہا کہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی تجارت نیز زیروریٹنگ سہولت برقراررکھنے کی باقاعدہ قراردادمنظورکی تھی،منظورشدہ قراداد کوحکومت کوبھی ارسال کیاگیا،سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے بھی اجلاس میں برآمدات کے فروغ کے لییزیروریٹنگ کی سہولت برقرار رکھنے کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت کو یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ سیلزٹیکس کا نیا نطام نہیں چل سکے گا اور نہ ہی یہ ملک کے مفاد میں ہے،ہم حکومت کا ساتھ دینا چاہتے ہیں لیکن جب انڈسٹری ہی نہیں چل سکے گی تومعیشت کا پہیہ بھی نہیں چل سکے گا۔جاوید بلوانی نے کہا کہ ٹیکس کا موجودہ نظام منظور نہیں،ٹیکسٹائل کا شعبہ اس وقت غیر یقینی کا شکار ہے،ایسے ہی حالات کی وجہ سے ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری پہلے بھی ملک سے جاچکی ہے،وزیراعظم سے درخواست کرتا ہوں کہ اس معاملے پر غور کریں ،کراچی کے صنعتکاروں کی بات پر توجہ دی جائے، کیونکہ اگرکراچی کی صنعت بند ہوئی تو ملک میں بحران پیدا ہوگا۔انکا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان ان لوگوں سے ملتے ہیں جو ملک کا ہمیشہ نقصان کرواتے رہے ہیں،اس طرح کے اقدامات سے بے روزگاری عروج پر پہنچ جائے گی، کراچی منی پاکستان ہے، 70 فیصد ٹیکس یہاں سے جمع ہوتا ہے۔