قومی زبان کو نافذ نہ کرنا دستور شکنی اور توہین عدالت ہے

157

لاہور (نمائندہ جسارت) دستور پاکستان کی شق 251 کے تحت اردو پاکستان کی قومی و سرکاری زبان ہے، نفاذ کے لیے مزید کسی قانون سازی کی ضرورت نہیں اور عدالت عظمیٰ نے نفاذ اردو کا دوٹوک حکم جاری کررکھا ہے۔ قومی زبان کو نافذ نہ کرنا دستور شکنی اور توہین عدالت ہے۔ ان خیالات کا اظہار عطا الرحمن چوہان، صدر تحریک نفاذ اردو پاکستان نے اسلام آباد میں ’’قومی زبان کے نفاذ کی اہمیت وضرورت‘‘ پر منعقدہ مجلس مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ دستور کا تقاضا ہے کہ اردو کو فوری طور پر پاکستان کی دفتری، تعلیمی، تدریسی اور سرکاری زبان کے طور پر رائج کیا جائے۔ اس بات کا فیصلہ قائداعظم ؒ نے پاکستان بنانے کے فوری بعد ۲۵ فروری ۱۹۴۸ء کو کردیا تھا اور پاکستان کے سابقہ دساتیر اور موجودہ دستور میں اردو کو قومی زبان قرار دیا گیا۔ حکمران اور نوکرشاہی انگریزی کی پشت پناہی کرکے پاکستان کو پسماندگی سے دوچار کررکھا ہے اور قومی زبان کو سرد خانے میں ڈال کر دستور شکنی اور توہین عدالت کا ارتکاب کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے انگریز کے ذہنی غلام قومی زبان کے ثمرات سے قوم کو محروم رکھ کر قومی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ممتاز ماہر تعلیم ڈاکٹر عطا اللہ نے کہا کہ اردو رسم الخط کی حفاظت سب پر لازم ہے اور رومن اردو کا استعمال قومی زبان کا گلہ گھونٹنے کے مترادف ہے۔ محمد اسلم الوری نے کہا کہ اردو میں سرکاری اور دفتری زبان بننے کی ساری خوبیاں موجود ہیں، کچھ انگریزی نواز لوگ غلط پروپیگنڈہ کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ شاہی قلعہ، بادشاہی مسجد اور مغل دور میں تعمیر ہونے والے عالیشان عمارتوں کے انجنیئر اور معمار انگریزی پڑھے ہوئے نہیں تھے،اقبال، رازی اور رومی بھی انگریزی میں پروآن نہیں چڑھے، ذہانت اور قابلیت انگریزی جاننے سے پیدا نہیں ہوتی۔ ڈاکٹرساجد خاکوانی نے کہا کہ قومی زبان کے نفاذ کے لیے عوامی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے، جب تک ہر شعبہ زندگی سے آواز نہیں اٹھے گی نفاذ کی منزل ممکن نہیں۔ سید ظہیر گیلانی نے کہا کہ قومی زبان کے نفاذ کے بغیر پاکستان کی ترقی ممکن نہیں، ستر سال سے بہت تجربات ہوگئے اب ہمیں قائداعظم کے فرمان کے مطابق قومی زبان ملک کی تعمیر کرنی چاہیے۔آخر میں ایک قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ اردو کو پاکستان کی دفتری، تدریسی او ر تعلیمی زبان کے طور پر رائج کیا جائے اور تمام ملازمتوں کے امتحانات اردو میں لیے جائیں۔