پولیس سرمایہ کاروں کو ہراساں کرنے اور لوٹنے سے باز رہے

130

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پولیس سرمایہ کاروں کو ہراساں کرنے اور لوٹنے سے باز رہے۔ 26جون2019بروز بدھ نصف شب حیدرآباد پولیس نے غیر قانونی طور پرہاشمی کالونی سائٹ ایریا حیدرآباد میں واقع براق آئل ملز(پرائیویٹ) لمیٹڈپر چھاپا مارا اور سب سے پہلے سرولنس کیمرے ہٹا دیے تاکہ ان کے جرم کا کوئی ثبوت نہ رہے۔ اس کے بعد چوکیداروں کو ایک کمرے میں بند کرکے بھاری مالیت کا لبریکینٹ اپنے ساتھ لائی ہوئی گاڑیوں میں لوڈ کیا۔ فیکٹری کے مالک عبدالجبارکو ساتھ والی فیکٹری کے سیکورٹی اسٹاف نے صورتحال سے آگاہ کیا جس پر وہ اپنی فیکٹری پہنچ گئے جہاں موجود پولیس کا عملہ نہ ہی چھاپے کا کوئی جواز پیش کر سکااور نہ ہی کوئی دستاویز۔وہ کبھی کائونٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کو اور کبھی ایڈیشنل آئی جی حیدرآبادکواس کاروائی کا ذمے دار قرار دیتے رہے اور لوٹا ہوا مال واپس کرنے پر بھی آمادہ نہیں ہوئے اور ڈی آئی جی کی مداخلت پر واپس چلے گئے۔پولیس کا کہنا تھا کہ فیکٹری میں تیار ہونے والا آئل جعلی ہے مگر انھیں شاید معلوم نہیں کہ جعلی آئل بنانے والوں کے خلاف کاروائی پولیس کا نہیں بلکہ اوگرا کا کام ہے جبکہ مذکورہ فیکٹری اوگرا، SEPA،SECP اورHDIP کی با قا عدہ لا ئسنس یافتہ ہے ، اس کے علا وہ سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ ہے اورحیدرآباد چیمبرکی بھی ممبر ہے ۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ پولیس اچھی شہرت کے حامل بھاری ٹیکس ادا کرنے والے صنعتکاروں کو غیر قانونی طور پرہراساں نہ کرے اور نہ ہی لوٹ مار کرے۔ انہوں نے آئی جی سندھ سید کلیم امام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائیں اور پولیس میں موجود کالی بھیڑوں کے خلاف سخت کاروائی کریں تاکہ وہ اپنی جیبیں بھرنے کے لیے آئندہ پر امن شہریوںاور صنعتکاروں کو نشانہ نہ بنائیں۔
حکومت کو ثابت قدمی سے اقدامات
کرنے کی ضرورت ہے ،ایاز لطیف پلیجو
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) قومی عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایاز لطیف پلیجو نے کہا ہے کہ پاکستان کو آئندہ پچاس سال کے لیے پالیسی 2070ء کی ضرورت ہے۔ گورننس، تعلیم، صحت کی بحالی، قرضوں سے نجات، غربت اور مہانگائی کا خاتمہ، ماحولیات اور کلائیمنٹ چینج، صنعتکاری، انرجی، پانی اور زراعت، مذہبی رواداری اور اقلیتوں کے حقوق، دفاع، خواتین، بچوں، نوجوانوں، مزدوروں اور کسانوں کے حقوق، لینڈ ریفارمز، صوبوں اور عوام میں وسائل کی منصفانہ تقسیم اور برابری، کرپشن کا خاتمہ، دہشتگردی اور فرقہ واریت کا خاتمہ، ٹیکس،قومی زبانیں اور قومی ثقافتیں، سائنس اور ٹیکنالوجی، بنیادی انسانی حقوق، کمیونیکیشن کے نقاط پر 50 سالہ منصوبہ بندی اور ثابت قدمی سے عمل کیلیے ایک ایسی پالیسی جوڑنے کی ضرورت ہے جس پر حکومتوں کی تبدیلی سے اثر نہ پڑ سکے۔