اشتہارات پر بھی سیلز ٹیکس

301

اخباری صنعت جو پہلے ہی مسائل کا شکار تھی اس کو کاغذ مہنگا مل رہا تھا، اشتہاری ایجنسیاں اخبارات کے اشتہارات کے پیسے دبائے بیٹھی ہیں، حکومتی ادارے بھی اس میں اپنا حصہ ڈالتے رہے ہیں ایسے میں حکومت سندھ نے اخبارات کو دیے جانے والے اشتہارات پر سیلز ٹیکس نافذ کردیا۔ 2013ء میں اس ٹیکس کو حذف کردیا گیا تھا۔ سندھ بجٹ کی منظوری کے ایک دن بعد اس سال 27 جون کو اچانک اخبارات کے اشتہارات پر سیلز ٹیکس کے نفاذ کا نوٹیفکیشن آگیا، اس نوٹیفکیشن کے ذریعے اشتہارات پر سیلز ٹیکس نافذ نہ کرنے کے 2013ء کے فیصلے کو ختم کردیا گیا ہے۔ اس حوالے سے حکومت نے اخبارات کی تنظیموں سے کوئی مشاورت نہیں کی۔ اخباری مالکان کی تنظیم اے پی این ایس نے اس فیصلے پر شدید تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ سندھ ریونیو بورڈ نے یکطرفہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کیوں کہ اخبارات کے اشتہارات پر ٹیکس بجٹ تجاویز میں شامل نہیں تھا۔ افسوس ناک امر تو یہ ہے کہ حکومت سندھ اخبارات کے اربوں روپے کے واجبات ادا کرنے میں ناکام ہے۔ بہت سے اداروں کے اشتہارات کی رقم کی جعلی ادائیگیوں کی شکایات بھی ہیں۔ ایک جانب حکومت اخبارات کے واجبات ادا نہیں کررہی، دوسری جانب ان پر مزید ٹیکس نافذ کیے جارہے ہیں۔ اخباری صنعت کو بحران سے نکالنے کے لیے مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی ہے۔ آج کل تو حکومت اور اپوزیشن دونوں ایک دوسرے کے خلاف مہم چلانے میں مصروف ہیں دونوں کو اپنے مقاصد کے لیے اخبارات کی ضرورت ہے لیکن اخبارات کو زندہ رکھنے کے لیے یہ کوئی تعاون کرنے کو تیار نہیں۔ اس صورت حال کا سارا ملبہ اخباری کارکنوں پر پڑتا ہے۔ جو اخباری ادارے محض تجارتی بنیادوں پر چلائے جارہے ہیں ان کے مالکان سارا خسارہ کارکنوں کی تنخواہوں میں کٹوتی اور چھانٹیوں کے ذریعے منتقل کر ڈالتے ہیں۔ حکومتوں کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ کس صنعت سے کتنے لوگ بے روزگار ہو گئے۔ کہنے کو تو ویج بورڈ بھی نافذ کردیا گیا ہے لیکن جب حکومت اخبارات پر نت نئے ٹیکس مسلط کرتی رہے گی تو اخبارات ویج بورڈ کیسے ادا کریں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو اس صورت حال کا نوٹس لینا چاہیے اخبارات کی تنظیموں سے مشاورت کرنی چاہیے اور وفاقی حکومت کو بھی اخباری صنعت سے دشمن کا رویہ ختم کرکے اس صنعت کو مضبوط و مستحکم کرنا چاہیے۔ آج جو حکومت میں ہیں کل وہ اپوزیشن میں ہو سکتے ہیں اس وقت انہیں ان ہی اخبارات کی ضرورت ہوگی۔