کھیل اور بڑا کھیل

256

یوں تو کھیل اب قوموں اور ملکوں کو قریب لانے کے خاطر ڈپلومیسی کے طور پر استعمال ہوتا ہے جیسا کہ پاکستان اور بھارت کے کشیدہ تعلقات میں کرکٹ ڈپلومیسی کی اصطلاح اکثر سننے کو ملتی رہی ہے مگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان کھیل کو جس طرح دونوں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے اور پہلے سے موجود خلیج بڑھانے کے لیے استعمال کیا گیا وہ ایک بڑے کھیل کا عکاس اور آئینہ دار ہے۔ اور بڑے کھیل کا شوق بڑی طاقتیں اور فریق ہی پال سکتے ہیں۔ اس شوق نے خطے کے عوام کو خون کے آنسو رلایا ہے مگر اب بھی یہ اپنی قیمت وصول کر رہا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے برطانیہ میں پاکستان اور افغانستان کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان ہونے والے میچ کے دوران کئی ناپسندیدہ واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی سی سی کو شکایت کی گئی کہ کھیل کو سیاست کی نذر کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو مزید سیکورٹی فراہم کی جائے۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھی کہا ہے کہ کچھ لوگوں نے بھیس بدل کر اسٹیڈیم کے اندر اور باہر جو رویہ اپنایا وہ کھیل نہیں تھا۔ یہ رویہ اپنانے والوں کو کچھ خاص لوگوں کی مدد حاصل تھی جن کے بارے میں ہمیں علم ہے۔
برطانیہ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان میچ کو ایک منظم منصوبہ بندی سے طوفان بدتمیزی کے طور پر استعمال کیا گیا۔ سامنے کچھ کرداراور چہرے تھے اور پس پردہ ان کے ہینڈلرز تھے۔ فوجی ترجمان نے ان ہینڈلرز کو جاننے کا دعویٰ کیا مگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ اس بااثر طبقے کا نام لیتے۔ پردے کے آگے تو صاف دکھائی دینے والا کردار افغان شناخت کا حامل تھا جنہوں نے پاکستانی شہریوں کو شکست کی تکلیف کے باعث زد وکوب کیا بلکہ ایک ایسے ہی شخص نے پاکستان کے کھلاڑی وہاب ریاض پر حملہ کرنے کی کوشش کی مگر اسے سیکورٹی والوں نے دبوچ لیا۔ چند دن پہلے ہی ایک افغان شہری کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں افغان وضع قطع رکھنے والا شخص ایک بھارتی ٹی وی کے نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ ’’افغان انڈیا بھائی بھائی ٹارگٹ پاکستان ہے‘‘۔ اس ساری ہڑبونگ اور بدتمیزی کے پیچھے تو بھارت کا ہاتھ یقینی ہے مگر اسٹیڈیم کے اوپر چکر کاٹتے جہازوں پر ’’جسٹس فار بلوچستان‘‘ کے بینر خالص کھیل کو سیاست کا کھیل بنانے کے بڑے اور شرمناک کھیل کا ثبوت ہیں۔ یہ بھارت کے عزائم اور چھوٹے پن سے آگے کی بات ہے۔ فوجی ترجمان اس کردار کو بھی جانتے ہیں اور شاید یہ کردار اس قدر بااثر اور طاقتور ہے کہ وہ جانتے بوجھتے ہوئے اس کا نام لینے سے کنی کترا گئے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی اس ’’بڑے کردار‘‘ کا نام نہیں لیا۔ بڑے تو کیا کسی چھوٹے کردار کا نام لینے سے بھی گریز ہی کیا گیا شاید بدلتے ہوئے حالات اور ماحول میں یہی عین تقاضائے مصلحت ہے۔
برطانوی حکومت کی اجازت کے بغیر فضائوں میں ایسے بینروں کے ساتھ جہاز وں کی اُڑانیں قطعی ناممکن تھیں۔ کوئی پرائیویٹ گروہ اس قدر بڑی سرگرمی کا متحمل بھی نہیں ہوسکتا۔ اس سے اندازہ ہوا کہ اگر یہ بنیادی طور پر بھارت کا آئیڈیا ہے تو اس میں برطانیہ بھی شریک کردار ہے اور برطانیہ کے پیچھے امریکا کا ہونا عین ممکن ہے۔ بلوچستان کے حالات وواقعات کے ڈانڈے سی پیک اور اس وجہ سے امریکی ناراضی سے جاملتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان خلیج پیدا کیے رکھنا عالمی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ یہ طاقتیں نہیں چاہتیں کہ دونوں ملکوں میں امن ہوجائے اور جنوب مشرقی ایشیا وسط ایشیا اور یورپ کے ساتھ زمینی طور پر جڑ جائے۔ پاکستان اور افغانستان ان دونوں دنیائوں کے درمیان پل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پچھلے دنوں افغانستان کے سابق وزیر اعظم گل بدین حکمت یار بھی دورۂ پاکستان کے دوران دبے لفظوں میں کہہ چکے ہیں کچھ قوتیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان اچھے تعلقات نہیں چاہتیں۔ کرکٹ میچ کے دوران افغانی شناخت کے حامل لوگوں کو بدتمیزی کے کردار بنا کر پیش کیا گیا اور اس سے دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے موجود خلیج اور بداعتمادی کو بڑھانے کی منظم کوشش کی گئی مگر فوجی ترجمان نے ان کرداروں کے روپ بدلنے کی بات کرکے ایک ہلکا سا اشارہ دیا ہے۔
افغان وضع قطع اپنانا اور پشتو اور فارسی بولنا اب صرف افغانوں تک محدود نہیں بلکہ امریکا نے اپنی تاریخ کی سترہ سالہ مشکل اور خوفناک جنگ کو جیتنے کے لیے جو خفیہ حربے اختیار کیے ان میں لمبی ڈاڑھیوں، اونچی شلواروں اور اسلام، مشرقیت اور افغانیت کے شعور سے بہرہ مند، زبان وبیان کے ہنر سے آشنا جدید تقاضوں سے ہم آہنگ افراد کی ایک تربیت یافتہ فوج تیار کرنا بھی شامل تھا۔ یہ اس قدر تربیت یافتہ افراد تھے جو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پیش امام کے فرائض اور ملک بھر میں صوفیا کے مزاروں پر بے خود ملنگوں اور فقیروں کی شکل میں برسوں اپنا تفویض کردہ کام انجام دیتے رہے ہیں۔ اس لیے کون جانتا ہے کہ اسٹیڈیم کے اندر اور باہر ہلڑ بازی کرنے والے اصل افغان تھے یا سی آئی اے مارکہ افغان روبوٹس تھے۔ اگر یہ اصل افغان بھی تھے تو ان کی ڈوریاں سی آئی اے کے ہاتھ میں تھیں۔ اس واقعے کے خلاف پاکستانیوں میں ردعمل پیدا ہونا فطری تھا اور اسی لیے سوشل میڈیا پر ’’گوافغانی گو‘‘ کا ٹرینڈ گردش کرتا رہا جس میں افغان مہاجرین کو پاکستان بدر کرنے کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔ کھیل جیسی خالص تفریح کو سیاسی کھیل میں بدلنا قطعی ناقابل قبول اور ناپسندیدہ رویہ ہے۔ بدمزگی کا عمل صرف افراد کے انفرادی رویوں پر محمول ہوتا اگر فضائوں میں بینر نہ لہرائے جاتے۔ بینر لہرانے سے معاملہ کلی طور پر مشکوک اور گمبھیر ہوگیا ہے۔ پاکستان کو ان حالات میں متعلقہ افراد اور اداروں کے سامنے احتجاج ریکارڈ کرانے تک محدود رہنے کے بجائے ایسے تمام ظاہری اور پوشیدہ کرداروں کو بے نقاب کرنا چاہیے۔