ڈاکٹر محمد مرسیؒ اقتدار سے قید وبند اور شہادت کے اعلیٰ منصب تک

277

عمران احمد سلفی

اسلامی دنیا بالعموم اور عرب ممالک بالخصوص یہود و نصاریٰ اور ان کے سرپرستوں اقوام متحدہ، امریکا، اسرائیل اور یورپ کے ہاتھوں عرصہ دراز سے مختلف سازشوں، جبر و استبدار قتل و غارت اور تباہی و بربادی کا شکار ہیں جس کی مختلف وجوہات ہیں۔ سب سے اہم وجہ اسلام سے دوری، قومیتوں کے فروغ اتحاد واتفاق کے بجائے اختلاف و انتشار، سیاسی، فوجی، اقتصادی، سائنسی زبوں حالی اور بیرونی قوتوں کے آلہ کار عوام دشمن حکمرانوں کا تسلط اہل اسلام پر تازیانے برسا رہا ہے۔
مصر جو عرب دنیا میں آبادی اور فوجی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ملک ہے۔ شاہ فاروق کی بادشاہت کے خاتمے اور فوجی جرنیل جمال عبدالناصر جو صحیح معنوں میں اتاترک کے نظریات کا حامل اور فخریہ انداز میں اپنے آپ کو فرعون کی اولاد گردانتا تھا اس نے اقتدار پر قبضہ کیا تو مصر کی اسلامی شناخت پر کاری وار کیے گئے۔ نصف صدی تک مصر پر مسلط ڈکٹیٹر جبرواستبداد کے ذریعے اسلامی شعائر کی پامالی میں مصروف رہے۔ جمال عبدالناصر کے دور استبداد میں علما کرام پر بے پناہ مظالم ڈھائے۔ ہزاروں اسلام پسند وں کو نہ صرف پابند سلاسل کیا گیا بلکہ شہید کیا گیا۔ اس دور استبداد میں حسن البنا اور سید قطب شہیدکی اخوان المسلمون نے ہرطرح کے ظلم وستم کے مقابل عزم وحوصلہ اور کسی بھی طرح غیر مسلح محض آئینی و قانونی جدوجہد جاری رکھی جو صرف تنفیذ اسلام کی داعی اور محرک تھی۔ جمال عبدالناصر کے بعد دوسرے فوجی جنرل انوار السادت نے عنان حکومت سنبھالی تو اخوان المسلمون کے لیے کسی قسم کی تبدیلی نہ آئی بلکہ 1967کی جنگ میں اسرائیل نے شام اور مصر کے جن علاقوں پر قبضے جما لیے تھے انوار السادات نے امریکی ایما پر اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کی خاطر نہ صرف دستبرداری اختیار کرلی بلکہ اسرائیل کو تسلیم بھی کرلیا اور سفارتی تعلقات قائم کرلیے نیز فلسطینی مسلمان مہاجرین جو اسرائیلی مظالم سے تنگ آکر مصر میں آباد ہوگئے ان کے خلاف کارروائیاں شروع کردیں۔ امریکا نے بڑی عیاری سے مذاکرات کے نام پر کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کرواکر اپنے پروردہ اسرائیل کو سب سے مضبوط دشمن سے محفوظ کروادیا۔ انوار السادات نے اسرائیل سے معاہدہ کرکے موت کے پروانے پر دستخط کردیے تھے جبکہ اس کے عوض مصرکو امریکی ڈالروں کی نوازشات ہوئیں اور وہ بھی ڈکٹیٹروں کے ذاتی اثاثوں میں اضافے کا سبب بنیں
اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کی نگاہوں میں ہمیشہ اسلام پسند جماعتیں کھٹکتی رہتی ہیں لہٰذا امریکی اشاروں پر انوار السادات نے بھی اسلام پسندوں کو کچلنے کی پالیسی اختیار کی اور محبان اسلام بالخصوص اخوان المسلمون کے بے شمار کارکنان قید و شہید کردیے گئے اور ڈکٹیٹر اپنے سرپرستوں کو راضی کرنے میں لگا رہا یہاں تک کہ مصری فوج کے ایک سپاہی خالد اسلامپولی کے ہاتھوں گولیوں کا نشانہ بنا اور اس کا قصہ تمام ہوا۔ انوار السادات کے بعد نیا ڈکٹیٹر حسنی مبارک مصر کے تخت پر براجمان ہوا اس نے اور اس کے حواریوں نے قتل و غارت
کے علاوہ لوٹ مار اور کرپشن کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے، عوام غربت و افلاس کے ہاتھوں بدحالی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبتے چلے گئے۔ آخر کار لاوا پھٹ پڑا اور اہل مصر نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ لاکھوں فرزندان اسلام تحریر اسکوائر میں مظاہرہ کے لیے جمع ہوتے چلے گئے اور سیاسی انداز میں اپنی جدوجہد کے ذریعے برسوں سے اقتدار پر قابض امریکی پٹھو حسنی مبارک کے خلاف احتجاج کرنے لگے مصری افواج جو ملک کی سیاہ و سفید کی مالک بنی ہوئی تھی آخر کار مجبور ہوکر حسنی مبارک کو اقتدار سے علیحدہ کردیا گیا اور عوام کے شدید احتجاج پر گرفتار بھی کرلیا گیا۔ حسنی مبارک کی علیحدگی کے باوجود فوج اقتدار پر قابض رہی تاہم اہل مصر نے اپنی جدوجہد جاری رکھی اور فوج کو انتخابات پر مجبور کردیا۔ جس کے نتیجے میں اسلامی پارٹیاں اخوان المسلمون اور النور پارٹی کامیاب ہوئیں۔ اس موقع پر مغربی ممالک کا منافقانہ کردار بھی کھل کر سامنے آگیا جو دنیا بھر میں جمہوریت اور انسانی آزادی کے چمپئن بنے پھرتے ہیں انہوں نے بھرپور کوشش کی کہ کسی طرح اسلامی جماعتیں اقتدار میں نہ آسکیں تاہم مصری عوام نے اپنے مثالی اتحاد اور جدوجہد کے ذریعے اس سازش کو ناکام بنادیا تھا اور قابض جرنیلوں کو اقتدار عوام کے حقیقی نمائندوں کے حوالے کرنا ہی پڑا اور اخوان المسلمون کے عظیم لیڈر و رہنما ڈاکٹر محمد مرسی مصرکے پہلے منتخب صدر بنے۔
مرسی کی حکومت بہت احتیاط سے حکومتی نظام لے کر آگے بڑھ رہی تھی اسرائیل اور اس کے سرپرست مغربی ممالک اس تبدیلی کو ٹھنڈے پیٹوں ہرگز برداشت کرنے والے نہیں تھے۔ مصری عوام کے اتحاد و اتفاق سے تمام تر سازشوں کو ناکامی ہورہی تھی اس وقت عرب دنیا میں مغربی سازشوں کے تحت اکھاڑ پچھاڑ کا سلسلہ جاری تھا۔ لیبیا، ترک، تیونس، عراق وغیرہ میں وہ انقلاب نہیں بلکہ اپنے گماشتوں کو اقتدار پر فائز کرواکر عرب مسلمانوں میں تفریق و تقسیم کا پلان کامیاب بنانا تھا اور مصر میں کسی صورت بھی محمد مرسی کی حکومت کو کامیاب نہیں ہونے دینا تھا۔ محمد مرسی بنیادی طور پر انجینئر اور پروفیسر تھے ان کا تعلق متوسط گھرانے سے تھا یقینا محمد مرسی اور ان کی جماعت اخوان المسلمون مبارک باد کے مستحق ہیں اور رہیں گے ان کی تاریخ شہادتوں سے بھری ہے کہ طویل ترین عدم تشدد اور کسی قسم کی غیرقانونی یا مسلح جدوجہد کے بغیر قربانیوں کی تاریخ رقم کرتے ہوئے جو مثالی کردار ادا کیا وہ یقینا لائق ستائش تھا۔ مصر جو عرب دنیا کا سب سے بڑا آبادی اور فوجی قوت کا مالک ہے اس میں محمد مرسی اپنے قائدانہ رول ادا کررہے تھے یقینا محمد مرسی کا بحیثیت صدر انتخاب اسلامی نشاط ثانیہ کا نکتہ آغاز تھا۔ انتخابات میں 52 فی صد کی اکثریت حاصل کرکے 30 جون 2012 کو مصر کے پہلے صدر منتخب کیے گئے تھے ان کی دلیرانہ قیادت نے عالم اسلام کے دشمنوں کو مضطرب کردیا تھا صرف ایک سال بعد 3 جولائی 2013 کو مصر ی جنرل عبدالفتاح السیسی نے اسرائیل اور دیگر اسلام دشمنوں کی حمایت سے ان کا تختہ الٹ دیا اور مرسی سمیت اخوان المسلمون کے ہزاروں کارکنان کو پابند سلاسل کردیا۔
عقوبت خانوں میں اسیر کارکنان کے ساتھ ان کے قائد مرسی پر تشدد کے پہاڑ توڑ دیے گئے اب تک اخوان کے 50 سے زائد نوجوانوں کو پھانسی دی جاچکی ہے جبکہ ہزاروں کارکنان اب بھی پابند سلاسل ہیں۔ محمد مرسی کو اقتدار سے محروم کرنے اور انہیں پابند سلاسل کرنے میں عرب ممالک کی اندورنی سیاست کا بھی بڑا دخل ہے۔ یہ انتہائی خطرناک بات ہے کہ اس وقت مسلمان ممالک خاص کر عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ شیروشکر ہیں اسرائیل کی مسلم دشمن معاملات پر خاموش رہ کر اس کی حمایت کررہے ہیں اور آخر دشمن اپنی دشمنی میں کامیاب ہوا۔ ڈاکٹر محمد مرسی اپنے رب کے حضور پیش ہوگئے مرسی مصر کے رہنما نہیں تھے بلکہ انہیں پورے عالم اسلام میں عزت واحترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ اللہ نے ان کا مقام اور بلند کردیا حصول اقتدار سے قید بند اور شہادت کا اعلیٰ منصب بھی مل گیا مرسی کی شہادت پر پاکستان میں سینیٹ سے حکومت اور اپوزیشن کی متفقہ قرارداد منظور کی گئی پاکستان سمیت دنیا بھر میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی بہت جلد مصر میں ایک بڑی تبدیلی آئے گی ظالم اپنے انجام کو پہنچے گے حق غالب ہوکر رہے گا۔