اچھے دنوں کا انتظار مگر کب تک!

206

ملک میں جاری تحریک انصاف اور حزب اختلاف کے درمیان سیاسی ’’کھیل‘‘ اپنے عروج کو پہنچ کر یک دم ختم ہوگیا ہے۔ اگرچہ اس سیاسی کھیل کے ساتھ قوم کی توجہ کرکٹ کے ورلڈ کپ کی طرف بھی رہی مگر اس سے اپوزیشن کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ملک کی تاریخ کی پہلی بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز اور دیگر پر مشتمل حزب اختلاف بجٹ پیش کیے جانے کے بعد سے یہ دعوے کررہی تھیں کہ بجٹ کو منظور نہ ہونے دیا جائے گا۔ مگر قومی اسمبلی میں حکومتی اراکان نے بجٹ باآسانی منظور کرالیا۔ حکومت نے آئندہ مالی سال 20-2019ء کے لیے وفاقی بجٹ نہ صرف کثرت رائے سے منظوری لے لیا بلکہ اس میں 2شقوں کا اضافہ بھی کردیا۔
بجٹ سے ملک کی معاشی صورتحال کی ابتری، نئے ٹیکسوں کے ’’سیلاب‘‘ کی باتوں اور شور شرابے سے حکومت پر کسی قسم کا اثر نہیں پڑرہا، یہ اور بات ہے کہ عوام ماضی کی طرح ہی بے چین اور تشویش میں مبتلا ہیں۔ عام لوگوں کی زندگیوں پر نہ پہلے مثبت اثرات پڑے تھے نہ انہیں آئندہ پڑنے کی امید ہے۔ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ یہ سب کچھ ان حالات میں ممکن ہوگیا جب ملک بھر میں یہ تاثر پیدا کرنے میں اپوزیشن کامیاب بھی نظر آرہی ہے کہ موجودہ حکومت حالات کو بدلنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ منتخب ایوان میں وفاقی بجٹ کی منظوری سے یہ بات ثابت ہورہی ہے کہ حکومت مضبوط اور مستحکم ہے اس کی حمایتی جماعتیں اس کے ساتھ ہی کھڑی ہیں۔ حالاںکہ دنیا میں لوگ امیر ہو رہے ہیں لیکن پاکستان میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ آدھی دنیا کا شمار مڈل کلاس ہونے لگا ہے، مگر پاکستان میں مڈل کلاس ہی کو ریورس گیئر لگ گیا ہے۔ وطن عزیز میں مڈل کلاس بڑھنے کے بجائے غربت بڑھ رہی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق ہر وہ شخص جس کی روزانہ آمدنی دو ڈالر یا ڈھائی سو روپے سے کم ہے اس کا شمار خط غربت سے نیچے ہوتا ہے لیکن پاکستان میں سو روپے روزانہ سے کم کمانے والے کو غریب تصور کیا جاتا ہے جو عالمی پیمانے پر بھی پورا نہیں اترتا۔ یوں سمجھ لیں کہ دنیا 250 روپے سے کم کمانے والے کو غریب کہتی ہے اور پاکستان میں 100 روپے سے کم کمانے والا غریب تصور کیا جاتا ہے۔ مڈل کلاس کی بات کی جائے تو بروکنگ انسٹیٹیوٹ کے مطابق تین افراد پر مشتمل گھرانے کی روزانہ آمدنی 20000 روپے ہو تو اس کا شمار عالمی مڈل کلاس میں ہو گا۔ اس پیمانے کے مطابق پاکستان کی صرف 30 فی صد آبادی ہی عالمی مڈل کلاس میں شامل ہے۔ ملک کی معاشی صورت حال کے حوالے سے سابق وزیر خانہ اسد عمر نے چند روز قبل قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں غربت ہے اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، پہلے سال میں ترقی کی رفتار صفر اعشاریہ چار تھی، لوگوں کو ملکی ترقی کی رفتار سست ہونے پر خدشات کا سامنا ہے، اسد عمر نے کہا تھا کہ دوسرا بڑا مسئلہ اس وقت مہنگائی ہے، ہمارے 8 ماہ میں مہنگائی کی شرح 6 اعشاریہ 5 فی صد تھی، لیکن جتنی مہنگائی پی پی نے کی کسی حکومت نے نہیں کی، اپوزیشن کو اس وقت غریبوں کی یاد نہیں آئی جب اس نے پانچ سال عوام کو بے دردری سے لوٹا۔
اسد عمر اگرچہ اب وزیر خزانہ نہیں رہے مگر وہ پی ٹی آئی کے اپنے ہیں، انہیں غربت کیا ہوتی ہے شاید اس کا بھی علم نہیں کیوںکہ وہ ایک سابق جنرل غلام عمر کے صاحبزادے ہیں، جنرلوں کے بچوں کا کبھی بھی عملاً غربت سے تعلق نہیں رہا اس لیے ان کے لیے بہت آسان ہے کہ وہ اپنی پارٹی کی حکومت کو ماضی کی حکومتوں سے تولیں۔ حالاںکہ انہیں یہ بات اب یقین کرلینی چاہیے کہ اگر ماضی کی حکومتیں صحیح نہیں تھیں تب ہی تو عوام نے پی ٹی آئی کو حکومت بنانے اور کرنے کا موقع دیا۔ عوام کا یہ کہنا درست ہی لگتا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے کئی سال میں ملک کا معاشی نظام خراب کردیا تھا مگر پی ٹی آئی کی حکومت نے تو 11 ماہ میں تو حالات بدتر کردیے ہیں۔
یہ بات بھی درست ہے کہ ٹیکس چوروں کا احتساب، بینکنگ قوانین بین الاقوامی اصولوں کے مطابق نہ ہونے اور ڈالرکی اہمیت کو کم کرنے کے لیے ماضی کی حکومتوں نے کوئی ایسے اقدامات نہیں کیے تھے جن سے ملک کے مجموعی معاشی حالات بہتر ہوسکیں۔ اب چوںکہ کچھ نئے اقدامات کیے جارہے ہیں اس لیے اب تھوڑی سے یہ امید تو ہونے لگی ہے کہ ملک کی دولت باآسانی ملک سے باہر نہیں جاسکے گی۔ جبکہ ٹیکسوں سے ملکی آمدنی میں بھی اضافہ ہونے کے امکانات ہیں، ساتھ ہی کرپشن کے خلاف ’’بڑے سیاسی ڈاکوؤں‘‘ کے گرد گھرا تنگ ہونے سے بھی بہتری کی امیدیں ہیں۔ اس لیے ہم کم ازکم خوش فہمی میں مبتلا ہوکر آئندہ چند سال میں اچھے دنوں کا انتظار تو کرسکتے ہیں ناں… مگر کب تک !، اس سوال کا جواب موجودہ حکومت کے ’’انصافیوں‘‘ کو دینا ہوگا کیوں کہ قوم کو صرف اچھی امیدیں رکھنے کا ہی تجربہ ہے۔