قال اللہ تعالی و قال رسول اللہ ﷺ

270

ک، ہ، ی، ع، ص۔ ذکر ہے اْس رحمت کا جو تیرے رب نے اپنے بندے زکریاؑ پر کی تھی۔ جبکہ اْس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا۔ اْس نے عرض کیا ’’اے پروردگار، میری ہڈیاں تک گھل گئی ہیں اور سر بڑھاپے سے بھڑک اٹھا ہے اے پروردگار، میں کبھی تجھ سے دعا مانگ کر نامراد نہیں رہا۔ مجھے اپنے پیچھے اپنے بھائی بندوں کی برائیوں کا خوف ہے، اور میری بیوی بانجھ ہے تو مجھے اپنے فضلِ خاص سے ایک وارث عطا کر دے۔ جو میرا وارث بھی ہو اور آلِ یعقوب کی میراث بھی پائے، اور اے پروردگار، اْس کو ایک پسندیدہ انسان بنا‘‘۔ (جواب دیا گیا) ’’اے زکریاؑ، ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰؑ ہو گا ہم نے اِس نام کا کوئی آدمی اس سے پہلے پیدا نہیں کیا‘‘۔ (سورۃ مریم:1تا 7)

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص جو لوگوں کے سامنے اچھے طریقے سے نماز پڑھتا ہے (خوب خشوع وخصوع کا مظاہرہ کرتا ہے اور رکوع اور سجدہ ٹھیک سے ادا کرتا ہے) اور جب تنہائی میں پڑھتا ہے تو ٹھیک سے نہیں پڑھتا تو ایسا شخص اپنے ربّ کو حقیر جانتا اور اس سے مذاق کرتا ہے۔ (ترغیب وترہیب)
سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کسی بندے کا ایمان درست نہیں ہو سکتا جب تک اس کا دل درست نہ ہو اس کا دل ٹھیک نہیں ہو سکتا جب تک اس کی زبان ٹھیک نہ ہو اور کوئی ایسا شخص جنت میں نہ جاسکے گا جس کے پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہ ہوں (ترغیب و ترہیب)