پروڈکشن آرڈر قانون کی تبدیلی میں حکومت کا ساتھ نہیں دینگے، اخترمینگل

111

اسلام آباد(صباح نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سرداراختر مینگل نے ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر کا قانون بدلنے کی کوشش میں حکومت کاساتھ نہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کسی بھی ایسی ترمیم یا قانون کا حصہ نہیں بنیں گے جو جمہوری تقاضوں کے برعکس ہو، پروڈکشن آرڈر کی کل ہمیں بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی حمایت بھی نہیں کریں گے ۔ ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگر حکومت نے ہمارے ؎
مطالبات پر تیزی سے عملدرآمد شروع کیا تو ہم حکومت کا ساتھ دیں گے ۔ وزیراعظم کہتے تھے کہ لاپتا افراد کا مسئلہ حل کرنا چاہتا ہوں لیکن ان کے وہ جذبات اب مجھے نظر نہیں آتے ، اب تک ہمارے صرف 10لاپتا افراد واپس آئے ہیں اگر ہر2 دن بعد 10،10 لاپتا افراد واپس آنا شروع ہو جائیں توپھر ہمارے ووٹ کے بدلے کسی ماں کے بیٹے کا واپس آنا گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔پروڈکشن آرڈر کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہاکہ آج اپوزیشن جن حالات کا سامنا کررہی ہے یہ ان کا اپنا کیا ہوا ہے ان کے اپنے قوانین بنائے ہوئے ہیں جن کا وہ سامنا کررہے ہیں ۔ عمران خان سے بھی کہتا ہوں کہ اس ملک کا اقتدار کسی کا نہیں رہا ہے ایسا نہ ہو کہ یہ قوانین جو آج آپ بنانے جارہے ہیں کل آپ کو بھی ان کا سامنا کرنا پڑے ، ہم کسی بھی ایسی ترمیم یا قانون کا حصہ نہیں بنیں گے جو جمہوری تقاضوں کے برعکس ہو۔ پروڈکشن آرڈر پر وزیراعظم کے موقف کی حمایت نہیں کریں گے ۔ پروڈکشن آرڈر کی کل ہمیں بھی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے معاملے پر اپوزیشن نے ہم سے رابطہ نہیں کیاہے ۔