ملک میںسنسر شپ نہیں، ذمے دار میڈیا چاہتے ہیں‘ فردوس عاشق

101

اسلام آباد (نمائندہ جسارت) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ کہیں سنسر شپ نہیں لگانا چاہتے، ذمے دار میڈیا چاہتے ہیں‘ سوشل میڈیا کو مانیٹر کرنے کا کوئی نظام نہیں۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس کمیٹی چیئرمین فیصل جاوید کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں سیاسی قیادت کی کردار کشی کا معاملہ زیر بحث آیا۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ فیک نیوز، کسی کو نشانہ بنانا یا ٹمپرنگ پر تشویش ہے‘ کہیں سنسر شپ نہیں لگانا چاہتے‘ ذمے دار میڈیا چاہتے ہیں۔
معاون خصوصی نے کہا کہ آج کے حالات میں پیمرا میں بھی بہتری لانے کی ضرورت ہے ‘ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو جھوٹی خبروں پر لائحہ عمل تیار کرنے کا کہا تھا‘ سوشل میڈیا پر ان گائیڈڈ میزائل چل رہے ہوتے ہیں۔ سینیٹر رحمن ملک نے کہا کہ جھوٹی خبروں کے باعث کردار کشی ہوتی ہے‘ صرف اپنی نہیں بلکہ تمام جماعتوں کی بات کر رہا ہوں۔ معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پی ٹی وی کے ملازمین کی پنشنز2016ء سے رکی ہوئی ہیں‘ ملازمین کو دینے کے لیے تنخواہیں نہیں تو پنشن کہاں سے دیں‘ پی ٹی وی کے گیٹ پر ملازمین کا احتجاج دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک سال کی پنشن جاری کر کے آئندہ کی منصوبہ بندی کی ہے، پنشنرز کو ادائیگیوں کے لیے70 کروڑ روپے کا اجرا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر کردار کشی پر مانیٹرنگ پیمرا نہیں‘ آئی ٹی کا کام ہے‘ سوشل میڈیا پر منفی خبروں اور پروپیگنڈے کو روکنے کے اقدامات ضروری ہیں۔ فردوس عاشق اعوان نے کہاہے کہ شہباز صاحب!پی اے سی کی سربراہی سے فراغت پارٹی کا آپ کے دماغی چیمبر پر عدم اعتماد ہے‘ گلوبٹ کے سرپرستوں کے منہ سے ریاستی دہشت گردی کی بات سنگین مذاق ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ میڈیا کی آزادی اور اظہار رائے پر کوئی قدغن نہیں، نیب کی زیر حراست مقدمات کا سامنا کرنے اور پروڈکشن آرڈر پر پارلیمان میں آنے والے ارکان اسمبلی پر قوانین اور قواعدو ضوابط لاگوہوتے ہیں ۔ بدھ کو سینیٹ کی اطلاعات و نشریات کی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پارلیمنٹ ہائوس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے سابق صدر آصف علی زرداری کے انٹرویو کو نشر کیے جانے سے روکے جانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کوئی بھی ملزم جو ریمانڈ پر نیب کے پاس زیر تفتیش ہوتا ہے اس کو عوامی رسائی حاصل نہیں ہوتی اور ایسے ملزم کا انٹرویو نہیں کیا جا سکتا۔ معاون خصوصی نے کہا کہ کراچی میں آصف زرداری کی بے نامی جائدادوں کو کل ایف بی آر نے اٹیچ کر دیا ہے۔ اسی طرح (ن) لیگ کے سینیٹر چودھری تنویر کی 6 ہزار کنال بے نامی زمین بھی نکلی ہے ۔