بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں کی نجکاری کا فیصلہ

166
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان وفاقی کابینہ کے اجلا س کی صدارت کررہے ہیں
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان وفاقی کابینہ کے اجلا س کی صدارت کررہے ہیں

 

اسلام آباد( نمائندہ جسارت) حکومت نے نجلی کی تقسیم کارکمپنیوں کی نجکاری کا فیصلہ کرلیا۔ اس حوالے سے رپورٹ کی تیاری تیز کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔منگل کو وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 40فیصد پرائیویٹ حج کوٹہ واپس لینے کی بھی منظوری دی گئی، اضافی کوٹے میں سے پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کو دیے جانے والا کوٹہ اب سرکاری اسکیم میں شامل ہوگا۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے میڈیا کو بتایا کہ کابینہ نے حج کے ا ضافی کوٹے کو سرکاری کوٹے کے تحت بروئے کارلانے کا فیصلہ کیا ہے،شاہ جہاں مرزا کو ایم ڈی نجکاری اورزبیر گیلانی کوچیئرمین سرمایہ کاری بورڈ تعینات کیا گیا ہے، سینئر سٹیزن پروگرام2019ء اورشمالی کوریاکے ساتھ ویزوں کے حوالے سے منصوبے کی بھی منظوری بھی دی
گئی۔کابینہ نے 40ہزارروپے والے بانڈز ختم کرنے کی بھی منظوری دی۔اغواء اور گمشدہ بچوں کے حوالے سے قومی کمیشن برائے تحفظ اطفال بھی قائم کرنے کی منظوری دی گئی ہے ، اس کے لیے قومی سطح پر ڈیٹابیس تیار کیا جائے گا۔ فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری نہیں کی جائے گی،اسٹیل ملز کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے چلایا جائے گا، وزیراعظم نے سی ڈی اے کو 2ہفتوں میں اسلام آباد کا نیا ماسٹر پلان بنانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ وفاقی کابینہ نے ارکان پارلیمنٹ کے حوالے سے پروڈکشن آرڈر اورسزا یافتہ قیدیوں کی جیلوں میں اے کلاس سے متعلق قوانین پر نظرثانی کا بھی فیصلہ کیا ہے۔فردوس عاشق اعوان کے مطابق بے نامی جائداد ضبط کرنے کی اتھارٹی کو کارروائیوں کی ہدایت کردی گئی۔وزیراعظم نے وزارت قانون کو پروڈکشن آرڈرز قوانین میں ترمیم لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ اور کرپشن میں ملوث ملزمان کے پروڈکشن آرڈرجاری نہیں ہونے چاہییں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ کرپشن میں سزایافتہ افراد کو وی آئی پی جیل میں نہ رکھا جائے کیونکہ نئے پاکستان میں سارے قیدیوں سے برابر سلوک ہوگا، قومی خرانے میں خردبرد کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیںہیں،مجرموں کے ساتھ کوئی مفاہمت نہیں ہو سکتی، ملک کو نقصان پہنچانے والوں کو جمہوری نہ سمجھیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ کوئی چور اور ڈاکو میرا ساتھی نہیں ہوسکتا، کل سے سیاستدانوں کی بے نامی جائداد ضبط کرنے کا عمل شروع ہو جائے گا۔
کمپنیوں کی نجکاری