جسٹس فائز کیخلاف صدارتی ریفرنس کی کارروائی بغیر اعلامیے کے ملتوی

77

اسلام آباد (نمائندہ جسارت) عدالت عظمیٰ کے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف حکومت کی جانب سے دائر کیے گئے صدارتی ریفرنس کی کارروائی 15 منٹ جاری رہی اور بغیر کسی اعلامیے کے ختم ہوگئی، عدالت کے باہر وکلا نے دن بھر دھرنا جاری رکھا، سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس کی کارروائی ملتوی ہونے کے بعد وکلا کے نمائندوں نے اپنا دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا اور اعلیٰ عدلیہ میں نئے ججوں کے تقرر پر اپنے تحفظات ظاہر کیے۔ گزشتہ روز سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان چیئرمین جسٹس آصف سعید کھوسہ کے چیمبر میں اکھٹے ہوئے اور کچھ دیر بعد اجلاس ختم ہوگیا۔ گزشتہ اجلاس 14 جون کو ہوا تھا جس کے بعد صدارتی
ریفرنس اور اس کے ساتھ لگائے گئے مواد کی نقول جسٹس قاضی فائز اور جسٹس کے کے آغا کو بجھوائی گئی تھیں تاکہ ان کا مؤقف سامنے آ سکے۔ سینئر وکلا کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل متعلقہ ججوں کو طلب کر کے بھی ان کا مؤقف سن سکتی ہے تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی بات سامنے نہیں آئی۔ اس موقع پر پاکستان بار کونسل کے صدر امجد شاہ نے کہا کہ ملک کی بقا، عدلیہ کی آزادی، آئین اور قانون کی حکمرانی کیلیے سب متحد ہیں۔ ہم ججز کیخلاف یہاں نہیں کھڑے، مطالبہ کیا تھا کہ تمام ریفرنسز کی سماعت کی جائے، ہمیں کچھ تحفظات ہیں۔ وائس چیئرمین نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ میں نئے ججوں کے تقرر کیلیے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں وکلا کے 2 نمائندے شریک ہوئے اور نئے ججز کی نامزدگی پر اعتراض اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ثبوت بھی فراہم کیے لیکن ہمارے نمائندوں کی بات کو اہمیت نہیں دی۔ ہمارے نمائندوں کو ایسا لگا کہ جیسے جوڈیشل کمیشن میں سب ارکان حکومت کے نمائندے ہیں۔ امجد شاہ نے کہا کہ اجلاس میں سارے اٹارنی جنرل بنے ہوئے تھے جنہوں نے ہمارے نمائندوں کی رائے کو بلڈوز کیا۔ عدلیہ سے گزارش ہے اس ملک کو اندھیرے کی طرف نہ دھکیلے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کی 45 بار کونسلز اور ایسوسی ایشنز کے نمائندے ان کی دعوت پر عدالت عظمیٰ آئے اور اب اگلا اجلاس پشاور میں ہوگا۔
صدارتی ریفرنس