جنوبی کوریا اور جاپان کے درمیان تجارتی جنگ میں شدت

184

ٹوکیو (انٹرنیشنل ڈیسک) جاپان کے جنوبی کوریا کے درمیان تجارتی جنگ میں شدت آنے سے دونوں ممالک میں کاروباری ادارے خطرات میں پڑگئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق جاپان نے اسمارٹ فونز اور سیمی کنڈکٹر جیسی جدید ٹیکنالوجی کی حامل مصنوعات میں استعمال کیے جانے والے مواد کی درآمد سے متعلق قوانین سخت کرنے کی تیاری کرلی ہے۔ جاپانی وزیر یوشی ہیدے سوگا کا کہنا تھا کہ جنوبی کوریا نے کئی بار دونوں ممالک کے مابین دوستانہ تعلقات کو مسترد کیا۔ اس کے ساتھ وہ جی 20 سربراہ اجلاس سے قبل دوسری جنگ عظیم کے دوران مزدوروں سے جبری مشقت کے معاملے پر اطمینان بخش ردعمل دینے میں ناکام رہا۔ ٹوکیو حکام کے مطابق جنوبی کوریائی عدالت کی جانب سے جاپانی کمپنیوں کو ہرجانے کی ادائیگی کا حکم جاری کرنے بعد انتہائی اقدام کیا گیا ہے۔ دوسری جانب جنوبی کوریا نے جاپانی اقدامات کواقتصادی انتقام قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔ وزارت خارجہ نے جاپانی حکومت سے بعض برآمدات پر پابندی کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کم ان چول نے کہا کہ یہ فیصلہ انتہائی افسوسناک ہے اور اس سے دوطرفہ تعلقات پر منفی اثر پڑسکتا ہے۔ کم ان نے کہا کہ حکومت ملکی کمپنیوں کو جوابی اقدامات کرنے میں مدد فراہم کرے گی اور جاپانی پابندیوں کی وجہ سے جنوبی کوریائی معیشت پر پڑنے والے اثرات کا بغور جائزہ لے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیئول حکومت جاپان کے فیصلے سے مقامی سیمی کنڈکٹر کی پیداوار پر اثرات کم کرنے کے لیے محتاط رویہ اپنائے گی کیوں کہ جنوبی کوریا کی معیشت پہلے ہی امریکا اور چین کے درمیان تجارتی تنازع کے باعث دباؤ میں ہے۔واضح رہے کہ جنوبی کوریا کا الزام ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی کمپنیوں نے اس کے مزدوروں سے زبردستی کام لیا تھا۔
پولینڈ: کوئلے کی کان میں حادثہ‘ 3 کان کن ہلاک
وارسا (انٹرنیشنل ڈیسک) پولینڈ میں کوئلے کے کان بیٹھنے کے نتیجے میں 3 کان کن ہلاک ہو گئے ۔ پولینڈ میں کان کن تنظیم کے ترجمان تھامس گلوگوسکی کے مطابق کاٹوویچے شہر میں کوئلے کی کان مرکی سٹازک میں تقریباً 720 میٹر گہرائی میں زلزلے کے جھٹکوں کی وجہ سے کان کی چھت بیٹھ گئی۔ وزیر اعظم ماتیو موراویکی نے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
موریطانیہ: دستوری عدالت نے نومنتخب صدر کی کامیابی کی توثیق کردی
نواکشوط (انٹرنیشنل ڈیسک) موریطانیہ میں اعلیٰ عدالت نے شیخ محمد ولد الغزوانی کی بطور صدر انتخاب کی توثیق کرتے ہوئے اپوزیشن کی جانب سے صدارتی انتخابات میں بے ضابطگیوں کے خلاف اپیل مسترد کردی۔ موریطانیہ کی دستوری کونسل کے مطابق سابق جنرل اور وزیر دفاع محمد احمد ولد الغزوانی 52فی صد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں سبکدوش ہونے والے صدر شیخ محمد ولد عبدالعزیز کی معیشت اور سیکورٹی سے متعلق پالیسیوں کو جاری رکھنے کا اعلان کیاہے۔