گاڑیوں پر بھی ٹیکس لگ گیا لگتا ہے بندر کے ہاتھ میں استرا آگیا،زرداری

245

اسلام آباد(آن لائن)سابق صدر آصف علی زرداری نے رانا ثناء اللہ کی منشیات کیس میں گرفتاری کو ظلم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بہت بھونڈا اور نرالا الزام ہے۔ کیا رانا ثناء اللہ اپنے ہی گاڑی میں منشیات لیکر جاسکتے ہیں ؟ رانا ثناء اللہ کے کیس کی سزا سزائے موت ہے ۔ان خیالات کا اظہار آصف زرداری نے منگل کے روز احتساب عدالت میں آمد کے موقع پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثناء اللہ کے ساتھ جو ظلم ہوا اس کی شدید مذمت کرتاہوں کیونکہ ان پر جو الزام لگایا گیا وہ بہت نرالا اور بھونڈا ہے کہ رانا ثناء اللہ اپنی ہی گاڑی میں منشیات لیکر جارہے تھے، کیا کوئی اپنی گاڑی میں منشیات لیکر جائے گا؟انہوں نے کہا کہ مجھ پر بھی منیشات کا کیس بنایا گیا تھا جس میں مجھے نکلتے 5سال لگ گئے۔ اس وقت میرے کیس کی سزا بھی سزائے موت تھی اور اب رانا ثناء اللہ پر بنائے جانے والے کیس کی سزا بھی سزائے موت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ حکومت سے ملک تو چل نہیں رہا لیکن ٹیکس لگائے جارہے ہیں کبھی گاڑیوں پر ٹیکس لگادیا جاتا ہے تو کبھی کسی اور چیز پر ۔آصف زرداری وزیر اعظم کی پارلیمنٹ ہاؤس کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے جیسے بندر کے ہاتھ میں استرا آگیا ہے اور وہ چلتے جارہا ہے لیکن میرے پاس بونگے کی باتیں سننے کیلیے وقت نہیں ہے۔گزشتہ روز نجی ٹی وی کے پروگرام میں انٹرویو نشر ہونے سے روکنے سے متعلق سوال کے جواب میں آصف علی زرداری نے کہا کہ کمزور لوگ ایسا ہی کرتے ہیں۔ ایک اعلیٰ شخصیت کے خلاف لندن میں ایک کیس بن رہا ہے ، یہ کیس امریکا تک جائے گا۔ اس کیس کی تحقیقات لندن اور امریکا میں ہو رہی ہیں۔ جب ہماری حکومت آئے گی تو نیب اس کیس کا نوٹس لے گا۔ میرے انٹرویو میں یہ ہی تو اصل بات تھی۔ ایک سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ گرفتاریاں ہوتی رہتی ہے ہم گرفتاری دے کر بھی مقابلہ کریں گے اور لڑتے رہیں گے۔ چیئرمین سینٹ کو ہٹائے جانے کے سوال کے جواب میں آصف زرداری نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا کہ کون کہہ رہا ہے کہ چیئرمین سینیٹ بچ جائے گا ۔