عبدالرشید کی نشے کے عادی افراد کیلیے بحالی مرکز کے قیام کی قراردادمنظور

123

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی میں گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس ( جی ڈی اے ) کے رکن عارف مصطفی جتوئی نے سندھ میں مشیران کے تقرر اختیارات اور مراعات سے متعلق نجی بل متعارف کرایا جبکہ ایوان نے صوبائی مالیاتی کمیشن کے قیام سے متعلق پی ٹی آئی کے رکن بلاول غفار اور ایم ایم اے کے رکن عبدالرشید کی صوبے میں نشے کے عادی افراد کے لیے بحالی مرکز کے قیام سے متعلق نجی قراردادمتفقہ طورپرمنظور کرلی ‘پیپلز پارٹی ‘ ایم کیو ایم ‘ تحریک انصاف ‘ جی ڈی اے اور تحریک لبیک کے ارکان نے قرارداد کی حمایت کی۔منگل کو سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت پونے 2 گھنٹے تاخیر سے شروع ہوا۔ایوان کی کارروائی کے آغاز میں سندھ میں باران رحمت کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔ایوان میں پرائیوٹ ممبر ڈے کے موقع پر ڈی اے کے رکن عارف مصطفی جتوئی کی جانب سے نجی بل جو سندھ میں مشیران کے تقرر،اختیارات اور مراعات سے متعلق ہے ایوان میں متعارف کرایا گیا۔بل کے محرک کا کہنا تھا کہ18ویں ترمیم کے بعد مشیروں کے تقرر کی تعداد 5کردی گئی ہے ،مشیر کابینہ اجلاس میں شریک ہوتے جہاں قومی اہمیت کے حامل فیصلے ہوتے ہیں،مروجہ قانون میں مشیروں پر کابینہ اجلاس کی روداد کو خفیہ رکھنے کی پابندی نہیں،ترمیمی بل کے ذریعے تجویز کیاہے کہ مشیروں پر بھی وزرا کی طرح قانونی پابندیاں عاید کی جائیں۔علاوہ ازیںسندھ میںصوبائی فنانس کمیشن کے قیام سے متعلق پی ٹی آئی کے بلال عبدالغفار کی نجی قرارداد ایوان میں پیش کی گئی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈ کو فوری طور نافذ کیا جائے۔اس موقع پر صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا کہ صوبائی فنانس کمیشن پر کوئی اختلاف نہیں،سندھ حکومت صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈ جلد دے گی۔ قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈ کی تشکیل جلد ازجلد کی جائے اورتمام پارلیمانی جماعتوں کے نمائندوں پرمشتمل کمیٹی قائم کی جائے،قرارداد منظور کرلی گئی۔ایم ایم اے کے رکن عبدالرشید کی جانب سے ایک نجی قرارداد جو صوبے میں نشے کے عادی افراد کے لیے بحالی مرکز کے قیام سے متعلق تھی پیش کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں چرس، افیوں، شراب اور ہیروئن کے بعد اب آئیس کرسٹل کا نشہ تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے،سرکاری اسپتالوں میں اس مرض کے لوگوں کے علاج کے وارڈ موجود ہیں مگر علاج نہیں کیا جاتا ،کراچی میں منشیات کے مسائل اور علاقے کسی سے چھپے ہوئے نہیں۔انہوں نے کہا کہ صحت اور علاج کے لیے اور انسداد کے لیے کچھ کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ لیاری، کیماڑی اور دیگر علاقے کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔پی ٹی آئی کے رکن عمران شاہ نے کہا کہ اسکولوں میں کوکین، ہیروئن، حشیش اور اس طرح کے مسائل موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ میٹرک، انٹر تک کے تعلیمی اداروں میں یورین ٹیسٹ کرائے جائیں اور ثابت ہونے پر ان بچوں کو تعلیمی اداروں سے نکالنے کی سزا دینی چاہیے۔ایوان نے سندھ کے تمام ڈسڑکٹ اسپتالوں میں منشیات کے عادی افرادکے علاج بحالی مراکز بنانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی ،جس کے بعد ایوان کی کارروائی جمعہ کی دوپہر2 بجے تک ملتوی کردی گئی۔