ایمنسٹی اسکیم میں پھنسے کیسز، ایسیٹ ڈیکلریشن میں شامل ہو ں گے

166

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی ) کے صدر جنید اسماعیل ماکڈا نے اسلام آباد میں وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر اور ممبر آئی آر ایف بی آر ڈاکٹر حامد عتیق سرور کے ساتھ اسلام آباد میںہونے والے اجلاسوں میںگفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2018کی ایمنسٹی اسکیم میں اثاثے ظاہر کرنے والے افراد کے وہ کیسز جواسکیم سے فائدہ اٹھانے کے آخری روز آئی ٹی کی خرابی کی وجہ سے مکمل نہیں ہو سکے اور تا حال پھسنے ہوئے ہیں

ایسے افراد کی مشکلات سننے کے بعد وزیر مملکت اور ممبر آئی آر نے تجویز دی کہ ایسے کیسز میں اثاثوں پر ادا کیا گیا 5فیصد ٹیکس واپس کر دیا جائے تاکہ یہ افراد اس سال اعلان کی گئی ایسٹ ڈیکلریشن اسکیم میں دوبارہ اپنے اثاثے ظاہر کرسکیں۔کے سی سی آئی کے صدر نے ایک بیان میں نشاندہی کرتے ہوئے کہاکہ کراچی چیمبر کو گزشتہ سال کی ایمنسٹی اسکیم میں غیرحل شدہ کیسز سے متعلق متعدد شکایات موصول ہوئی جس میں اگرچہ لوگوں نے ایمنسٹی اسکیم کی آخری تاریخ کے مقررہ وقت میں اپنے اثاثے ظاہر کرتے ہوئے ٹیکسز ادا کیے لیکن ان کے کیسز کو ایف بی آر کے پورٹل نے قبول نہیں کیا اور اب تک ان تمام کیسز کی قسمت کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔کے سی سی آئی نے وقتاً فوقتاً خطوط ارسال کیے تاکہ اس مسئلے کو حل کیا جاسکے اور فیصلہ سازوں نے اس مسئلے کو حل کرنے کی پورا یقین بھی دلوایا لیکن کسی قسم کا ریلیف فراہم نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ حکومت اس سال اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم کو کامیاب بنانے کی بھرپور کوششیں کررہی ہے لہٰذا حکومت کو ایسے زیرالتواء کیسزکی طرف بھی توجہ دیتے ہوئے ایسے افراد کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنا چاہیے جن کے کیسز ایف بی آر کے پورٹل پر دباؤ یا آئی ٹی کی خرابی کی وجہ سے پروسیس نہیں ہوئے۔جنید ماکڈا نے تجویز دی کہ ایف بی آر کو اس ضمن میں نوٹیفیکیشن جاری کرنا چاہیے جس میں مذکورہ کیسز کے لیے لازمی طور پر ریفنڈ دینے کا اعلان کیا جائے تاکہ مذکورہ افراد فوری طور پر رواں سال اعلان کی گئی ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھاسکیں۔کے سی سی آئی کے صدر نے کاروبار کرنے کو آسان بنانے کی حکومت کی سنجیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ ایف بی آر اس مسئلے پر ضرور توجہ دے گا اور وعدے کے مطابق ایسے کیسز کے لیے ریلیف کا اعلان کرے گا جس کے نتیجے میں دیگر افرادکی بھی حوصلہ افزائی ہوگی کہ وہ اس اسکیم سے فائدہ اٹھائیں۔انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ اگرچہ اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم کی آخری تاریخ میں مزید 3 دن کی توسیع کی گئی ہے لیکن یہ ناکافی ہے لہٰذا حکومت کو لازماً اس اسکیم میں مزید 30یوم کی توسیع کرنی چاہیے تاکہ زیاہ سے زیادہ تعداد میںلوگ اسکیم سے مستفید ہوسکیں جو قومی خزانے کے لیے فائد مند ثابت ہوگا۔ تاجر برادری بجٹ میں موجود بے قائدگیوں اور پیچیدگیوں کی نشاندھی کرنے میں مشغول رہی جبکہ اثاثے ظاہر کرنے والی اسکیم کا جائزہ لینے اور اس سے مستفید ہونے کی ممکنات کا جائزہ لینے کے لئے بہت کم وقت ملا لہذا اس اسکیم کی آخری تاریخ میں توسیع کرنی ہی ہوگی۔