متنازعہ ٹیکس سسٹم واپس لینے کے لیے تاجروںکا 72گھنٹے کا الٹی میٹم

194

کراچی (اسٹاف رپورٹر) تاجروں نے حکومت کو 72 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حالیہ بجٹ میں پیش کیا گیا متنازعہ اور ظالمانہ ٹیکس سسٹم واپس نہ لیا گیا تو تاجر برادری غیر معینہ مددت تک ہڑتال کرے گی، مارکیٹوں کو ٹیکس سروے ٹیموں کیلئے نو گو ایریا بنادینگے، احتجاجی تحریک کا دائرہ کار پورے ملک میں پھیل جائیگا، یہ مطالبہ شہر کی تمام مرکزی تاجر تنظیموں کے نمائندگان نے آج ریگل چوک صدر تا کراچی پریس کلب پر کراچی تاجر ایکشن کمیٹی کے زیراہتمام ایک عظیم الشان بجٹ نامنظور احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، ریلی کے شرکاء نے بجٹ نامنظور، تاجروں کا معاشی قتل نامنظور، پی ٹی اے کی جانب سے موبائیل کی بندش نامنظور کے پلے کارڈ ہاتھوں میں اٹھا رکھے تھے، ریلی میں تاجر نمائیندگان عتیق میر، رضوان عرفان، جمیل پراچہ، حماد پونا والا، حکیم شاہ، شرجیل گوپلانی، شیخ محمد عالم، شیخ محمد ارشاد،حاجی ہارون چاند، انیس مجید،احمد قادری ، محمد ارشد، احسان گجر، وقاص عظیم، محمد راحیل سمیت دیگر تاجر عہدیداران نے حالیہ وفاقی بجٹ کو تجارت کش اور تاجر دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ کی متنازعہ شقوں کی اصلاح اور ٹیکس سسٹم کو تاجر و عوام دوست بنانے کیلئے فوری طور پر تاجروں کے نمائندوں سے مشاورت کی جائے، تاجروں نے حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کے عملے کی بدعنوانیوں اور زیادتیوں کی روک تھام کیلئے بھی اقدامات کیئے جائیں اور ایسے قوانین واضع کیئے جائیں جن سے ٹیکس محصولات میں اضافہ اور راشی ٹیکس افسران کا قلع قمع کیا جاسکے، تاجروں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایمنسٹی کی تاریخ میں 03ماہ کا اضافہ کیا جائے جبکہ فکس ٹیکس وصول کیا جائے تاجروں کو الگ الگ حراساں کرنے کے بجائے چار کٹیگریز میں 3ہزار روپے سے لیکر 20ہزار روپے تک ٹیکس وصول کیا جائے۔ بینکوں میں پچاس ہزار روپے کی ٹرانزکشن پر ٹیکس کی شرح کم کی جائے۔ خریداروں سے شناختی کارڈ وصول کرنے کے قانون کو ختم کیا جائے دوکانوں پر چھاپوں کے بجائے ایف بی آر کی ٹیمیں تاجر تنظیموں سے رابطہ کرے بصورت دیگر ایف بی آرکی ٹیموں کو مارکیٹوں میں داخل نہیں ہونے دیں گے ۔ بجلی، گیس،پیٹرول اور کھانے پینے کی اشیاء میں فی الفور کمی کی جائے ،چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکس کم کیا جائے، مکان خریدنے پر زیرو ٹیکس کیا جائے، آئی ایم ایف کے کہنے پر کوئی بھی نیا ٹیکس قابل قبول نہیں ہوگا اور سب سے بڑھ کر ڈالر کی قیمتوں میں کمی کی جائے اگر معیشت کو پروان چڑھانی ہے تو یہ تمام اقدامات کرنے پڑیں گے ، کراچی میں سات ہزار سے زائد دکانیں مسمار کی گئی ہیں فی الفور ان دوکانداروں کو دوکانیں فراہم کی جائیں۔ پی ٹی اے کی جانب سے جو موبائیل فون بند کیے گئے ہیں انکو فوری کھولا جائے۔ 72گھنٹوں میں مطالبات نہ مانے گئے تو غیر معینہ مددت کیلئے شٹر ڈائون ہڑتال کریں گے۔