عمران خان ڈھیل اور ڈیل پر تیار

340

وزیر اعظم عمران خان اور ان کے حواری اٹھتے بیٹھتے نعرے لگاتے رہے ہیں ’’ڈیل ہوگی نہ ڈھیل ملے گی‘‘۔ اب کہتے ہیں کہ نواز شریف اور آصف زرداری پیسے دیں اور جہاں چاہیں چلے جائیں، پلی بارگین ہوسکتی ہے۔ یعنی یہ نہ صرف ڈیل ہے بلکہ ڈھیل دینے کا اعلان بھی ہے۔ گزشتہ پیر کو ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف پیسے دیں اور علاج کے لیے باہر چلے جائیں، زرداری مشکل میں ہیں تو رقم لوٹا دیں، این آر او نہیں ملے گا لیکن پلی بارگین ہوسکتی ہے۔ عمران خان جب سے اقتدار میں لائے گئے ہیں مسلسل یہی کہے جارہے ہیں کہ این آر او نہیں دوں گا۔ ان کے کسی پڑھے لکھے ساتھی نے انہیں یہ نہیں بتایا کہ وہ این آر او دے ہی نہیں سکتے۔ این آر او کا مطلب ہے قومی مصالحتی آرڈیننس ۔ آرڈیننس فوجی حکمران جاری کرتے ہیں، عمران خان یہ نہیں کرسکتے۔ عمران خان کے وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے بھی گزشتہ پیر ہی کو فرمایا ہے کہ عمران حکومت چھوڑ سکتے ہیں، این آر او نہیں دیں گے۔ یہ بھی فرمایا کہ زرداری اور نواز شریف جیل سے باہر نہیں آ سکیں گے۔ اعجاز شاہ نے تسلیم کیا کہ ’’ بلاشبہ پرویز مشرف لیڈر ہیں ‘‘۔ عمران خان نے پرویز مشرف کی باقیات کو جمع کر رکھا ہے اور دوسروں کو کہتے ہیں کہ وہ فوج کی نرسری کی پیداوار ہیں۔ اب عمران خان نے اپنی شہرت کے مطابق پھر یو۔ ٹرن لیتے ہوئے پلی بارگین کا عندیہ ظاہر کردیا ہے۔ کہاں تو یہ شور تھا کہ کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔ ایک تاجر کی طرح پیسے لے کر ہر گناہ، ہر خطا، ہر جرم معاف کر کے سودے بازی پر اتر آئے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے صدر شہبا ز شریف نے ان کو چیلنج کر رکھا ہے کہ جس نے این آر او مانگا ہے اس کا نام تو بتائیں ’’خواجہ‘‘ کے ایک گواہ شیخ رشید ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے سامنے کسی نے این آر او مانگا ہے۔ حالاں کہ شیخ رشید یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ جب سے ان کی والدہ کا انتقال ہوا ہے انہوں نے جھوٹ بولنا چھوڑ دیا ہے۔ شاید ایسا ہی ہو۔ عمران خان نے نیا حکم جاری کیا ہے کہ نواز شریف کو گھر کا کھانا نہ دیا جائے۔ اگلا حکم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے ذاتی معالجوں کو ملنے بھی نہ دیا جائے۔ اصولاً تو یہ بات صحیح ہے کہ تمام مجرموں کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہئے لیکن ایسا کبھی ہوا نہیں ۔ اب ممکن ہے کہ عمران خان تمام مجرموں سے یکساں سلوک کرگزریں۔ اپنے مخالفین کے لیے تو وہ بات کہہ چکے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم بننے سے پہلے اعلان کیا تھا کہ ’’رانا ثناء اللہ کو مونچھوں سے پکڑ کر جیل میں ڈالوں گا ‘‘۔ اور انہوں نے کر دکھایا۔ لیکن بڑے بھونڈے طریقے سے۔ اس کے لیے انسداد منشایت فورس (اے این ایف) کی مدد حاصل کی گئی۔ لیکن یہ ایسا تماشا ہے جس سے حکمران محظوظ نہیں ہوسکیں گے۔ بلاشبہ رانا ثناء اللہ پر بڑے سنگین الزامات ہیں جن میں کئی قتل بھی شامل ہیں۔ لیکن گرفتاری منشیات فروشی اور منشیات فروشوں سے رابطوں پر ہوئی ہے۔ لیکن اس ڈرامے کا اسکرپٹ بہت ہی کمزور ہے۔ وہ فیصل آباد سے لاہور آرہے تھے، افغانستان یا قبائلی علاقے سے نہیں ۔ اب تک ملنے والی اطلاعات کے مطابق اے این ایف کے اہلکاروں نے موٹر وے پر ان کی گاڑی کو روکا اور رانا ثناء کی نشاندہی پر ایک سوٹ کیس برآمد کرلیا جس میں ہیروئن کے پیکٹ رکھے ہوئے تھے۔ اس کا کوئی گواہ نہیں ہے۔ اے این ایف نے 24گھنٹے گزرنے پر بھی کوئی وضاحت جاری نہیں کی البتہ ہربات کی معلومات رکھنے والی اور ہر معاملے میں رائے دینے والی فردوس عاشق اعوان نے اسی رات تمام تفصیلات بیان کردیں کہ ہیروئن کی مقدار کیا تھی اور یہ لاہور ائرپورٹ لے جائی جارہی تھی۔ اس کے ساتھ ہی ٹیپ کا بند کہ حکومت کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں، اے این ایف ایک خود مختار ادارہ ہے۔ جب کہ عمران خان کے بہت چہیتے وزیر فواد چودھری ایک ٹی وی پروگرام میں کہہ چکے ہیں کہ گرفتاریاں نیب نہیں کررہی، ہم کررہے ہیں۔ انہوں نے کھل کر سچ بول دیا۔ عمرانی حکومت اس وقت جس بحران میں گھری ہوئی ہے اور عوام کو اذیت میں مبتلا کرر کھا ہے اس کے پیش نئی حماقتوں سے گریز کرنا چاہیے۔ اگررانا ثناء اللہ پر منشیات فروشی کا الزام ثابت نہ ہوسکا تو حکومت کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہو جائے گی۔ پکڑا اے این ایف نے ہے لیکن مسلسل وضاحتیں فردوس عاشق پیش کررہی ہیں۔ بہرحال عمران خان نے اپنا کہا پورا کردکھایا۔