عیدقرباںکے قریب آتے ہی کانگووائرس کاہوّاسراٹھانے لگا

346

کراچی (رپورٹ: قاضی عمران احمد) عید قرباں کے قریب آتے ہی ہر سال کانگو وائرس کے نام پر کروڑوں کے فنڈز کے حصول اور مسلمانان پاکستان کو سنت ابراہیمی ؑ سے دور کر نے کے لیے احتیاطی تدابیر اور ہدایات جاری کر دی جاتی ہیں، اس وائرس سے متاثرہ مریض ایک ماہ قبل ہی منظر عام پر لے آئے جاتے ہیں اور پھر ان کی ہلاکت کی خبریں سامنے آتی ہیں جس کے باعث لوگوں میں خوف بڑھتا ہے، پاکستان کے گاؤں دیہات میں لاکھوں لوگ روزانہ انہی گائیں بھینسوں کے درمیان دن اور رات گزارتے ہیں مگر پورا سال کانگو وائرس سے متاثر کوئی مریض منظر عام پر نہیں آتا لیکن عید الاضحی کے قریب آتے ہی کانگو وائرس کا ہوّا کھڑا کر دیا جاتا ہے جس کا بنیادی مقصد ایک طرف لوگوں کو سنت ابراہیمی کی ادائیگی سے روکنا ہوتا ہے تو دوسری جانب کروڑوں روپے کے فنڈز سمیٹنے ہوتے ہیں۔ اس سال بھی ایک خبر جاری کی گئی ہے کہ ’’شہر قائد میں جون کے مہینے میں کانگو بخار سے3 افراد کی اموات کا انکشاف ہوا ہے۔ محکمہ صحت سندھ کے حکام نے کراچی میں کانگو بخار سے ایک ماہ میں 3 افراد کی اموات کی تصدیق کردی ہے۔ تینوں مریضوں کا انتقال گلشن اقبال کے نجی اسپتال میں ہوا۔ قربانی کے جانور کراچی آجانے کے بعد کانگو کے وبائی صورت اختیار کرنے کا خدشہ ہے جس کے تحت بلدیہ کراچی کے سینئر میڈیکل ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز نے الرٹ جاری کردیا ہے۔‘‘ منصوبہ بندی کے تحت ہر سال خبر چلانے کی ذمے داری کبھی کسی نجی اسپتال کو دے دی جاتی ہے تو کبھی یہ مریض سرکاری اسپتال سے ’’دریافت‘‘ ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں ’’جسارت‘‘ نے مختلف مویشی منڈیوں کا ایک سروے کیا جس میں لوگوں سے اس حوالے سے گفتگو کی۔ ان افراد کا کہنا تھا کہ کانگو وائرس کے پھیلاؤ کی افواہ سنت ابراہیمی ؑ سے دور کرنے کی سازش ہے، برسوں گائے، بھینسوں کے باڑے میں کام کرنے کے باوجود کچھ نہیں ہوا، نسل در نسل ان جانوروں کے درمیان زندگی گزار دی ہے مگر کانگو نامی بلا سے کسی کی موت کے بارے میں نہیں سنا۔ بھینس کالونی موڑ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری محمد سلیم قریشی کا کہنا تھا کہ گزشتہ 50 برسوں کے دوران تو کبھی ایسا سننے میں بھی نہیں آیا کہ یہاں کوئی شخص ’’کانگو بخار‘‘ سے مر گیا ہو جب کہ یہاں لاکھوں گائے بھینسوں کے درمیان ہزاروں افراد 24 گھنٹے رہتے اور اپنا کام کرتے ہیں، ان کا یہ سارا سال کا کام ہے لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی کو کانگو بخار ہوا ہو اور اس کی ہلاکت ہوگئی ہو۔ ملیر میںعلی مرتضیٰ مسجد و مدرسہ کی اجتماعی قربانی میںمویشیوںکی دیکھ بھال کرنے والے قادر اور سائیں داد کا کہنا تھا کہ ہم سجاول کے رہنے والے ہیں اور بچپن سے گائے، بھینسوں کے باڑے میں کام کر رہے ہیں مگر یہ کانگو وائرس کا واویلا شہروں میں ہی سنائی دیتا ہے،انہوںنے کہا کہ جب ہم باڑے میں جانوروں کے فضلے کی صفائی کر رہے ہوتے ہیں تو ہمارے کپڑوں پر درجنوں چیچڑیاں اور کیڑے چل رہے ہوتے ہیں جنہیں ہم کام کے دوران جھاڑتے جاتے ہیں، اللہ کا شکر ہے کہ ہمیں کچھ نہیں ہوتا۔ آسو گوٹھ ملیر بکرا پیڑی میں کام کرنے والے خدا بخش بلوچ کا کہنا تھا کہ بھائی ہماری تو عمر ہی گزر گئی ان جانوروں کے درمیان رہتے اور ان کی خدمت کرتے، میری عمر اب 65 سال کے لگ بھگ ہے اور میرے والد بھی یہی کام کرتے تھے مگر ہم نے کانگو نامی بلا کا ذکر کبھی نہیں سنا، اس بلا کا چرچا تو یہ کچھ سال سے سنائی دیا ہے ۔ مرتضیٰ چورنگی لانڈھی پر لگی مویشی منڈی میں موجود ایک تاجر وسیم کا کہنا تھا کہ یہ کانگو وائرس کا شور لوگوں کو سنت ابراہیمؑ سے دور کرنے کی سازش ہے کہ اس وائر س سے ڈرا کر لوگوں کو قربانی کرنے سے روکا جائے۔ وسیم کا کہنا تھا کہ میں کئی برسوں سے عید قرباں سے قبل اندرون سندھ سے قربانی کے جانور منگوا کر فروخت کرتا ہوں، میرا ان جانوروں کے درمیان زیادہ تر وقت گزرتا ہے جب کہ میں نے کئی ملازم بھی رکھے ہوئے ہیں جو 24 گھنٹے ان جانوروں کی دیکھ بھال کرتے ہیںلیکن کبھی کسی وائرس کے حملے کی شکایت نہیں ہوئی۔