جعلی حکومت کے خاتمے کے لیے اسلام آباد کوبند کرینگے‘ فضل الرحمن

100

اسلام آباد(صباح نیوز) جمعیت علماء اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے انکشاف کیا ہے کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے ان سے ملاقات کی ہے اور کہاکہ وہ ان کا بہت احترام کرتے ہیں، جعلی حکومت کو ختم کرنے، اسمبلیوں کی تحلیل اور نئے انتخابات کے لیے اسلام آباد کو بند کریں گے، بلاول بھٹو زرداری ، شہباز شریف ، مولانا فضل الرحمن جلد مشترکہ جلسوں میں نظر آئیں گے،رہبر کمیٹی کو فیصلے کرلینے دو، دو تین روز میں اجلاس ہو جائے گا،25جولائی کو یوم سیاہ کے موقع پر مشترکہ مظاہرے ہوں گے، پشاور میں ملین مارچ ہوگا، ڈیزل کی پرمٹ اور زمینیں الاٹ کرانے کی دستاویزات تو ہوں گی انہیںآج تک سامنے کیوں نہیں لایا گیا ، مجھ پر اس طرح کے بیہودہ الزامات لگانے والے بڑے آکر معذرت کرچکے ہیں، دونوں بڑی جماعتیں یقیناً سوچ رہی ہوں گی کہ آغاز ہی میں ان کو اسمبلیوں میں نہیں آنا چاہیے تھا، اب بھی انہیں کہہ رہا ہوں کہ اجتماعی استعفے دے دو حکومت نہیں چل سکے گی ، انتخابات کروانے پڑیں گے، جمہوریت ، پارلیمنٹ اور سیاست کے حوالے سے جعلی حکومت بے نقاب ہوچکی ہے۔ ان خیالات اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی انٹرویو میں کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے واضح کیا کہ نیب سیاسی انتقام کے لیے بنایا گیا تھا دونوں بڑی جماعتوں کو کہا تھا کہ ا سے بدل دو مگر میرا کہنا نہ مانا کہ اعتراضات اٹھیں گے، میں نے انہیں کہا کہ خیبرپختونخوا کا احتساب کمیشن تحریک انصاف نے ختم کردیا اس پر کیا اثر پڑا۔ نواز شریف کو آغاز میںکہاکہ جعلی حکومت کیخلاف تحریک شروع کردو، نواز شریف کا خیال تھا کہ حکومت کو بے نقاب ہونے دو، اب سمجھ آگئی ہوگی کہ آغاز میں ہی نہیں جانا چاہیے تھا اب بھی وقت ہے اسمبلیوں سے اجتماعی استعفے دے دییجائیں۔ اے پی سی میں تمام اپوزیشن جماعتیں متحد تھیں اور ایم ایم اے کا سربراہ اس کا میزبان تھا۔ ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا ہی بہت بڑی خبر ہے۔ چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی پر سب کا اتفاق رائے ، چیئرمین سینیٹ کو منصب سے ہٹانا اور نئے چیئرمین کولانا پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن پر منحصر ہے۔ ابھی تک اس بارے کوئی پیشرفت نہیںہوئی لیکن یقین واثق ہے کہ دونوں بڑی پارٹیوں کی اس پر نظر ضرور ہوگی۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ چیئرمین سینیٹ اور اس کی لابی مختلف شکلوں میں لوگوں سے مل رہے ہیں تاکہ کسی طریقے سے ان کو بچایا جاسکے ۔ جب اس طرح کا اضطراب اور بے چینی سامنے آتی ہے تو اس کا معنی یہ ہے کہ ہائوس میں اراکین اس حوالے سے سنجیدہ نظر آرہے ہیں ، عدم اعتماد کے لیے اراکین کو منظم کرنا ہوتا ہے، رہبر کمیٹی کے ارکان مکمل ہوگئے ہیں اس کی سربراہی کون کرے گا اس کے لیے ن لیگ اور پیپلزپارٹی سے رابطے میں ہیں ، جیسے ہی اس بارے میںکوئی فیصلہ ہوگا میٹنگ کے شیڈول کا اعلان کردیا جائیگا۔ پیپلزپارٹی کا خیال ہے کہ رہبر کمیٹی کا سربراہ یوسف رضا گیلانی ہوں جبکہ ن لیگ کی رائے یہ ہے کہ اے پی سی کی سربراہی کرنے والا ہی رہبر کمیٹی کی سربراہی کرے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ اگر یوسف رضاگیلانی سربراہی کریں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ایک ہفتے کے اندر اپوزیشن میں اتفاق پیدا کیا ۔