بلدیہ عظمیٰ: ملازمین تنخواہوں سے محروم، نئی اسامیوں کیلیے درخواستیں طلب

129

کراچی (رپورٹ: محمد انور) بلدیہ عظمیٰ میں گریڈ ایک تا 4 کی اسامیوں کے لیے 2 دن میں 25 ہزار درخواستیں موصول ہوچکی ہیں جبکہ دوسری طرف عام خیال یہ ہے کہ مذکورہ اسامیوں پر میرٹ کے خلاف تقررکا عمل مکمل کردیا جائے گا۔ یادرہے کہ کے ایم سی حکام نے تاحال گزشتہ سال ریگولرائز کیے گیے 721 ملازمین کی تنخواہیں بھی جاری نہیں کیں۔ تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ملازمین شدید مالی پریشانی کا شکار ہیں۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ کے ایم سی حکام نے ادارے میں خالی گریڈ ایک تا 4 کی اسامیوں پر فوری طور پر براہ راست تقررکرنے کے فیصلے کے تحت اخباری اشتہارات کے ذریعے بیروگار نوجوانوں سے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ان اسامیوں پر تقررکے لیے بلدیہ کی کونسل کو اعتماد میں لیا گیا نہ ہی اب تک کونسل سے اس کی منظوری لی گئی جس کی وجہ سے خدشات ہیں کہ ان اسامیوں کو سیاسی اور رشوت کے عوض پرُ کردیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک تا 4 گریڈ کی کل 1151 اسامیاں خالی ہیں جس کی وجہ سے مختلف امور میں افرادی قوت کی کمی کا بھی سامنا تھا جبکہ گزشتہ سال جولائی میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر 2011ء سے کام کرنے والے 721 ملازمین کو مستقل کیا گیا جن کی وجہ سے افرادی قوت میں کسی حد تک بہتری آگئی ہے۔ تاہم ان 721 ملازمین کو بعض وجوہات کی بناء پر تنخواہیں ملنا شروع نہیں ہوئیں۔ ان ملازمین نے میئر وسیم اختر سے اپیل کی ہے کہ انہیں جلد سے جلد بقایاجات سمیت تمام تنخواہوں کی ادائیگی کی جائے۔ ملازمین کو تنخواہیں ملنے کا سلسلہ شروع نہ ہونے کے باوجود کم گریڈ کی 1151 اسامیوں کے لیے درخواستیں دینے والوں کا ہجوم کے ایم سی ہیڈ آفس میں روزانہ ہی جمع ہورہا ہے۔ بعض درخواست گزاروں نے شکایت کی ہے کہ چند افراد ملازمتوں کے متلاشی افراد سے ایک تا 3 لاکھ روپے رشوت کا مطالبہ کررہے ہیں۔