جعلی اکاؤنٹس کیس: آصف زرداری کا مزید 13 روزہ ریمانڈ دیدیا گیا

72

اسلام آباد (آن لائن) احتساب عدالت نمبر 2 کے جج محمد ارشد ملک کی عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں آصف علی زرداری کو 15 جولائی تک کے مزید ریمانڈ پر نیب حکام کے حوالے کر دیا۔ بعدازاں نیب حکام نے آصف زرداری کو احتساب عدالت کے ایڈمنسٹریٹوجج محمد بشیرکی عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایاکہ پارک لین میں آصف زرداری کی گرفتاری ڈال دی ہے اور ریفرنس جلد سماعت کیلیے پیش کیا جائے گا جبکہ ریمانڈاحتساب عدالت نمبر 2 سے لے لیا گیا ہے، جس کے بعد نیب حکام آصف زرداری کو واپس لے گئے۔ گزشتہ روز ریمانڈ ختم ہونے پر نیب حکام نے سابق صدر پاکستان کو احتساب عدالت پیش کیا۔ دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے کہا کہ پارک لین کیس میں بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے، 27 اپریل 2019ء کو چیئرمین نیب نے آصف زرداری کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں، کل سابق صدر آصف زرداری کو گرفتار کیا ہے۔ نیب نے پارک لین کمپنی کیس میں آصف زرداری کے 14روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ پارک لین کیس میں آصف زرداری کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر تھی، جو بعد میں واپس لے لی گئی، اسی درخواست میں ہم پارک لین میں تفتیش کرنا چاہتے ہیں اجازت دی جائے۔ اس پر جج محمد ارشدملک نے کہا کہ پہلے ہی کہا تھا کہ سب کیسسز ملتے ہیں ایک ساتھ ریمانڈ لے لیں۔ عدالت نے تفتیشی افسرسے استفسارکیاکہ کیا آپ دونوں ایک ہی ریمانڈ پر تفتیش نہیں کر سکتے،جس پرتفتیشی افسرنے کہاکہ جیسے عدالت کہے گی ہم کر لیں گے۔ عدالت نے کہاکہ کیا نیب بتا نہیں سکتا اور کتنے کیسز میں زرداری کو گرفتار کرنا ہے؟اس پرنیب پراسیکیوٹرنے کہاکہ جب کسی کیس میں ملزم کا کردار سامنے آئے تب ہی ہم بتا سکتے ہیں، پیشگی یہ بتانا ممکن نہیں کہ کتنے کیسز میں گرفتاری ہو سکتی ہے۔ عدالت نے کہاکہ ایسے تو آپ 22مقدمات میں ان سے تفتیش شروع کر دیں گے، ہر تفتیشی نے ایک ایک گھنٹہ بھی لیا تو دن میں 22گھنٹے تفتیش ہو گی۔ وکلا کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے آصف زرداری کو 13 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرنے کاحکم سنادیا۔