بد عنوان شخص کو مرنے کے بعد کرپشن کی رقم واپس کرنا ہوگی،چیف جسٹس

76

اسلام آباد(آن لائن) عدالت عظمیٰ نے مرحوم ڈی ایس پی جمیل اختر کیانی اور اہلیہ مسمات ریاض بی بی کی اپیلوں پر فیصلہ سنا تے ہوئے قرار دیا ہے کہ کرپشن کی رقم مرکزمیں ادا کرنا ہوگی۔معاملہ کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بدعنوان شخص کو مرنے کے بعد بھی کرپشن کی رقم واپس کرنا ہوگی۔کرپشن کی رقم تو واپس کرنا ہو گی۔جرمانہ کی رقم کی گئی کرپشن سے بہت کم ہے۔پچاس سال پہلے ڈھائی کروڑ کا پلاٹ لیاگیا۔اس پلاٹ کی موجودہ مالیت ڈھائی ارب سے زیادہ ہوگی۔2003 میں کیا گیا 3 کروڑ جرمانہ آج کے حساب سے انتہائی کم ہے۔جرمانہ کسی صورت کم نہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔کرپشن کا ساری عمر لوگ استعمال کرتے ہیں۔ایشو یہ نہیں کہ اثاثوں پر مزے کبے گئے۔ایشو یہ ہے نو کروڑ کے اثاثے کب اور کیسے بنے۔نیب کے وکیل نے اس موقع پر عدالت کو بتایا کہ جمیل اختر کیانی 1959 بھرتی اور 1995 میں ڈی ایس پی پولیس ریٹائرڈ ہوئے۔مجرمان کے وکیل نے اس موقع پر موقف اپنایا کہ جرمانہ کی تین کروڑ رقم ادا نہیں کر سکتے ۔نیب نے ہمارے 1995 کے بعد کے اکائونٹ بھی ضبط کر لیے تھے۔جمیل اختر کیانی پر کرپشن اور اختیار کے ناجائز استعمال کا الزام تھا۔ٹرائل کورٹ نے جمیل اختر اور اسکی اہلیہ کو دس اور پانچ سال سزا کیساتھ 30 ملین جرمانہ کیا تھا۔جسے بعد ازاںہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔علاوہ ازیںسپریم کورٹ نے بھتے کے ملزم دولت خان کی سزامعافی کی درخواست خارج کر دی ہے۔سزا معافی کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔دوران سماعت سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم 2014 میں سوات کے علاقے کبل میں بھتہ وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ملزم رقم لیکر ا سکول کی دیوار پھلانگ رہا تھا کہ پولیس نے گرفتار کیا۔ملزم سے موقع پر 3 لاکھ روپے اور موبائل فون برآمد ہوا۔ملزم کے وکیل نے اس موقع پر عدالت کے روبرو موقف اپنایا کہ دسمبر 2019 میں ملزم کی سزا ختم ہو رہی ہے۔ملزم اور فریقین کے درمیان راضی نامہ بھی ہو چکا ہے۔ سزا ختم ہونے میں 6 ماہ رہ گئیہ،یں سزا ختم کی جائے۔2015 میں ٹرائل کورٹ نے ملزم کو 6 سال قید کی سزا سنائی تھی۔2018 میں ہائی کورٹ خیبر پختون خوا نے ملزم کی سز اکم کر کے 5 سال کر دی تھی ۔چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سنگین جرم ہے۔ ایسے کیسز میں کوئی ریلف نہیں دے سکتے۔کیا پتہ فریقین کو دھمکا کر صلح کی گئی ہو۔عدالت نے دولت خان کی طرف سے سزا معافی کی دائر درخواست خارج کرتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا ہے ۔
چیف جسٹس