حکومت سے ناراض نہیں،صرف گلے چکورے تھے ،اختر مینگل

113

اسلام آباد(صباح نیوز،آن لائن)بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کی سربراہ رکن قومی اسمبلی سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ناراضی نہیں تھی ۔معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے گلہ شکوہ ضرور تھا ۔بلوچستان میں بازیاب ہونے والے10لاپتا افرا د کے اہل خانہ کیلیے عید سے بڑی خوشخبری ہے۔ وفاقی حکومت سے امید رکھتے ہیں کہ بازیابی کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا ۔ہمارا ایک نقطہ گوادر میں قانون سازی ہے تاکہ گوادر کے عوام کو اقلیت میں تبدیل ہونے سے روکا جاسکے گا ۔وفاقی پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کے روڈ اور ڈیموں کیلیے رقم مختص کرنا اچھی پیش رفت ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔علاوہ ازیںبلوچستان نیشنل پارٹی( مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ مسئلہ
بلوچستان کے ذمہ داران کے تعین کیلیے جلد حکومت اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی صوبے کا دورہ کرے گی۔ احساس محرومی نہیں بلکہ احساس ماتم اور احساس غم کا معاملہ ہے۔ بلوچستان میں سازشوں سے منظور نظر کو لایا جاتا رہا۔ صوبائی حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد آئینی اور جمہوری حق ہے جو زیر غور ہے۔ اگر چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر بات ہوسکتی ہے تو بلوچستان حکومت کیخلاف کیوں نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں میٹ دی پریس میں کیا۔ پارٹی رہنما سینیٹر جہانزیب جمالدینی اور عبدالرئوف مینگل بھی اس موقع پر موجود تھے۔ انہوں نے کہاکہ اسپیکر قومی اسمبلی نے مسئلہ بلوچستان پر پارلیمانی کمیٹی بنا دی ہے یہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بلوچستان کا دورہ کرے گی اور مسئلے کے ذمہ داران چاہے ان کا تعلق سیاسی طبقے سے ہو ، اسٹیبلشمنٹ سے ہو تعین کرے گی۔ حکومت نے ہم سے رابطہ کیا، حکومت سے کبھی بھی ہمارا رابطہ نہیں ٹوٹا۔ انہوں نے مثبت قدم اٹھایا دس لاپتا افراد واپس آگئے ہیں۔ آج میں اس ماں کی بات کیوں نہ کروں جو خوشی سے پھولے نہیں سما رہی جو سب کو دعائیں دے رہی ہے اس کا لاپتا بیٹا مل گیا ہے کیا اس سے بڑی خوشی ہوسکتی ہے۔، کیا یہ سودے بازی ہے کہ لاپتا لوگوں کو تلاش کرنے میں پیشرفت ہو جائے۔ انہوں نے کہاکہ سابقہ حکومتوں کے ادوار میں بڑی تعداد میں لوگوں کو اٹھایا گیا ہم نے ان جماعتوں سے کہا کہ ان میں سے 25 فیصد افراد کی واپس لانے میں ہماری مدد کریں۔ ان کے دور میں کوئٹہ سے اسلام آباد تک ہزاروں کلو میٹر کا پیدل مارچ ہوا مگر لاپتا افراد بازیاب نہ ہوئے۔ سردار اختر مینگل نے کہاکہ پارلیمنٹ میں واضح کرچکا ہوں کہ ایوان میں چوری کا سیاسی کھیل نہ کھیلیں ورنہ مشرف کا مور آجائے گا، عقل مند کیلیے اشارہ کافی ہے، جب بھی عالمی کشیدگی ہوتی ہے پاکستان میں ایسے حالات بنانے کی کوشش یا بن جاتے ہیں کہ سیاسی قوتوں کو ناکام ظاہر کیا جاتا ہے۔ سب جماعتوں کو کہا ہے کہ اس حوالے سے ضرور سوچیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ موجودہ اور سابقہ حکمرانوں کے درمیان فرق سامنے لانے کیلیے ڈیجیٹل ترازو کی ضرورت پڑے گی۔ انہوں نے کہاکہ ہم کیسے لوگ ہیں کہ تھری پیس سوٹ میں قرضوں کی بھیک مانگتے ہیں۔ اگر بھکاری بننا ہے تو جھونپڑیوں میں رہو، تھری پیس سوٹ تو نہ پہنو، شاہی اخراجات کو کم کرو، حکومت کو پانچ ہزار سے زائد لاپتا افراد کی لسٹ دی ہے ۔ وزیر دفاع کو بھی یہ فہرست دے چکا ہوں، پانچ ہزار سے زائد لاپتا افراد کی فہرست قومی اسمبلی کے ریکارڈ کا حصہ بنا چکا ہوں۔ باہر بیٹھے افراد سے مذاکرات سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سابقہ دور میں یہ کام سوئٹزرلینڈ اور لندن کے ویزے لینے تک ہی محدود رہا۔ اگر غار میں بیٹھنے والے پر بلوچستان کے حالات کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے تو اس بڑھ کر تو ہم خود ہی ان حالات کے ذمہ دار ہیں۔، ہمیں ہزاروں میل دور کوئی بینر تو نظر آجاتا ہے مگر چند گھنٹوں کی مسافت پر اجتماعی قبریں نظر نہیں آتیں جس دن بلوچستان کی یہ اجتماعی قبریں نظر آگئیں لوگ ہزاروں میل دور لہرائے گئے بینرز کو اہمیت دینا چھوڑ دیں گے۔
اختر مینگل