اسمال ٹریڈرز کامرکزی تنظیم تاجران کے 33نکات کی حمایت کا اعلان

88

کراچی (نمائندہ جسارت) آل پاکستان آرگنائزیشن آف اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریزنے مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے33نکاتی مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے اسے
پورے ملک کے تاجروں کے دل کی آواز قرار دیا اور حکومت سے ان مطالبات کی فوری منظوری کا مطالبہ کیا ہے ۔ اس بات کا اعلان آج مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے مرکزی صدر کاشف چودھری اور اسمال ٹریڈرز کے مرکزی جنرل سیکرٹری محبوب اعظم سے رابطے کے بعد کیا گیا ۔ کاشف چودھری نے آئی ایم ایف کے مسلط کردہ ظالمانہ بجٹ کے خلاف تاجر تحریک کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ ملتان میں تاجر کنونشن میں ہم نے حکومتی نمائندے شاہ محمود قریشی کو اپنے مطالبات پیش کر دیے ہیں اور ان کی منظوری کے لیے 7روز کا وقت دیا ہے ۔ حکومت کی جانب سے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں ہم آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے ۔ اسمال ٹریڈرز کے مرکزی سیکرٹری محبوب اعظم نے انجمن تاجران کے صدر کاشف چودھری کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا ۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ایجنٹوں کے بنائے ہوئے بجٹ کے بعد تاجروں کا کاروبار کرنا ناممکن ہو گیا ہے ۔ تحریک انصاف نے غلامی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں جو لوگ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے بجائے خود کشی کو ترجیح دینے کے دعویدار تھے انہوں نے پورا ملک آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا ہے ۔ اس موقع پر اسمال ٹریڈر ز کراچی کے صدر محمود حامد نے کہا کہ آئی ایم ایف کا بجٹ واپس نہ لیا گیا تو کراچی سے خیبر تک بھر پور تحریک چلائیں گے اور جی ایس ٹی نا منظور تحریک اور اسٹاک چیکنگ تحریک کی تاریخ کو دوبارہ دہرائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تاجروں کو کمزور نہ سمجھے ۔ ٹیکس لینے کے لیے فرینڈلی اور تاجر دوست ماحول بنانا پڑتا ہے ۔ ڈنڈے اور بندوق کے زور پر نہ پہلے کوئی ٹیکس لے سکا ہے اور نہ آئندہ کوئی لے سکے گا ۔ موجودہ بجٹ سے تاجر ہی نہیں عوام بھی بلبلا اُٹھے ہیں ، بجلی ، پیٹرول ، گیس کی قیمتوں میں اضافے کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں 22روپے کا اضافہ موجودہ حکمرانوں کے ذہنی توازن پر سوالیہ نشان ہے ۔
اسمال ٹریڈرز