ایف پی سی سی آئی کا موجودہ دفتر ی نظام بری طرح مفلو ج ہو چکاہے

594

کراچی (اسٹاف رپورٹر)ایف پی سی سی آئی کے سابقہ نائب صدر ، فائونڈرپریذیڈنٹ اٹک چیمبر اور موجودہ ECممبر ایف پی سی سی آئی مر زا عبد الرحمان نے کہا ہے کہ ایف پی سی سی آئی کا موجودہ دفتر ی نظام بری طرح سے مفلو ج ہو چکا ہے کیونکہ تمام عہدیداران کی آپس میں کوئی کوآرڈینیشن نہیں ہے ۔ صدر اور سینئر نائب صدر کی بھی آپس میں نہیں بنتی ہے اور عہدیداران کی آ پسی چپقلش اور نا راضگیاں عروج پر ہیں ۔ گزشتہ ECجنرل باڈی میٹنگ میں نائب صدور نے برملا شکوہ کیا تھا اور سیکریٹری جنرل اقبال تھیم کے رویہ پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا تھا جبکہ یہ تمام با تیں اب کھل کے سامنے آنے لگی ہیں ۔ جیسا کہ سیکرٹری جنرل اقبال تھیم ایک ماہ کی رخصت پر چلے گئے ہیں اور اُن کی جگہ ایڈیشنل سیکرٹری جنرل مہر عالم کو ایڈ یشنل چا رج دیا گیا ہے ۔ لیکن وہ کراچی کی نا اہل کچن کیبنٹ کو اچھے نہیں لگ رہے، جس پربڑی سرکار کی بیرون ملک روانگی کے فوراً بعدانہیں عہدے سے ہٹا دیا گیااورانکی انکوائری شروع کروا دی گئی ۔اگر آج بڑی سرکار پاکستان میں موجود ہو تی تو مہر عالم سے ایسا رویہ نا رکھا جاتا۔ مہر عالم ہر دور میں اپنی سمجھداری کی وجہ سے کا میاب رہے اور اُن کا کردار ہمیشہ ایف پی سی سی آئی کے لیے مثبت رہا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ گز شتہ 25سال سے مہر عالم کی یف پی سی سی آئی میں تعینا تی کو سرا ہا جا تا رہا ہے لیکن اب ان کی کارکردگی کو فوی طور پر برا کہہ دیا گیا ہے۔ تمام چیمبرز اور ایسوسی ایشنز زنے اس غیر معقول فیصلے کو رد کرتے ہوئے فوراً ایف پی سی سی آئی کے صدر سے مطا لبہ کیا ہے کہ مہر عالم کو اس عہدے پر بر قرار رکھا جائے۔ پہلے غیر جا نبدارانہ انکوائری کی جائے اور اسکے بعد فیصلہ کیا جائے کیونکہ انصا ف کا بھی یہی تقا ضہ ہے ۔دوسری جانب پاکستان کی بز نس کمیونٹی وفا قی بجٹ میں سخت فیصلوں کی وجہ سے مشکلا ت کا شکا ر ہے اور ہڑتالوں پر مجبور ہو گئی ہے لیکن فیڈریشن کے صدر اور عہدیدارباہم دست و گریبان ہیں۔