آرمی چیف کی معاشی فیصلوں کی حمایت لائق تحسین ہے، میاں زاہد حسین

329

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں قومی معیشت سے متعلق ایک سیمینار میں خطاب کے دوران ملک کی اقتصادی صورتحال پر اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے معاشی خود مختاری کے بغیر آزادی کو ناممکن قرار دیا ہے جو ایک بہت بڑی حقیقت کا اظہار ہے۔ بری افواج کے سربراہ کی جانب سے ملکی معاشی معاملات میں دلچسپی لائق تحسین ہے جس سے حکومت اور فوج کا ایک پیج پر ہونے اور مل جل کر ملک کو سنگین اقتصادی مسائل سے نکالنے کے مثبت فیصلے کا پتہ چلتا ہے۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ فوج ملکی معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے صرف باتیں نہیں بلکہ عملی اقدامات بھی کر رہی ہے اورفوجی بجٹ میںاضا فہ نہ لینے کا فیصلہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جو خوش آئند بھی ہے مگر سیکورٹی چیلنجز کے حوالے سے کسی حد تک تشویشناک بھی ہے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ اپنے خطاب میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملک کی موجودہ خراب صورتحال کو ماضی میں معاشی معاملات میں بدانتظامی اور مشکل فیصلے نہ کرنے کا نتیجہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے مشکل اور نتیجہ خیز فیصلے کیے ہیں جن کو کامیاب بنانے کے لیے سب کو اپنا کردار اد اکرنا ہو گا۔ دنیا کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جب مشکل حالات میں مختلف اقوام نے اتحاد کا مظاہرہ کر کے سنگین مسائل کا کامیابی سے مقابلہ کیا اور سرخرو رہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے معاشی استحکام اور ملکی سلامتی کے تعلق کو بہت بہتر انداز میں اجاگر کیاگیا ہے جس کے بعد تمام شعبوں سے وابستہ افراد کو اپنے مفادات سے بالا تر ہو کر ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے اپنا بھرپورکردار اد اکرنے کی ضرورت ہے اورملک بھر کی کاروباری برادری بھی اس سلسلہ میں حکومت سے بھرپور تعاون کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ملک کو سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی کی بہت ضرورت ہے جس کے بغیر کامیابی مشکل ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ موجودہ حکومت معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی اور اسے مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور وزیر اعظم عمران خان اس سلسلہ میں قوم سے مسلسل رابطے میں ہیں۔انھوں نے کہا کہ اس وقت غیر ملکی قرضے سو ارب ڈالر سے بڑھ چکے ہیں، ٹیکسوں کی وصولی میںچار سو ارب کی کمی واقع ہوئی ہے، جی ڈی پی 6.2فیصد کی بجائے 2.7فیصد ہو چکا ہے ، ڈسکائونٹ ریٹ 12فیصد سے زیادہ ہو گیا ہے ۔روپے کی قد ر میں تا ریخی کمی کے باوجود ایکسپورٹس جو ں کی توں ہیں ۔ حکومتی اخراجات ،صنعت و تجارت کے مسائل، ڈالر کی قدر، مہنگائی اور بے روزگاری مسلسل بڑھ رہی ہیںجبکہ ایمنسٹی سکیم کے بارے میں کاروباری برادری کے تحفظات کم ہو گئے ہیں مگر دور نہیں ہوئے۔ دس ماہ میں تیل گیس اور بجلی کی قیمت گیارہ بار بڑھائی گئی ہے جبکہ تاجروں اور صنعتکاروںکی مختلف تنظیموں نے احتجاج شروع کر دیا ہے۔ ان حالات میں حکومت کو درست فیصلے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معیشت کا پہیہ جام نہ ہو جائے۔