گیس کی قیمتوں میں اضافہ ظلم ہے، محمد فاروق شیخانی

118

حیدرآباد (کامرس ڈیسک) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد فاروق شیخانی نے یکم جولائی سے حکومت نے کمرشل، صنعتی اور گھریلو صارفین کے لیے گیس میں بے پناہ قیمتوں کے اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر کے بہت ظلم و زیادتی کا ثبوت دیا ہے اور اِس کو حکومت کی ناعاقبت اندیشی سے تعبیر کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ کمرشل اور صنعتی صارفین پر گیس کی قیمتوں کے اطلاق سے وہاں تیار ہونے والی مصنوعات کی قیمتوں میں لامحالہ اضافہ ہوگا جس کا براہ راست عام آدمی شکار ہوگا اور عوام کے کندھوں پر جو پہلے ہی روزمرہ کی ضروریات کی اشیاء کی قیمتیں بڑھنے سے اُن کی کمر ٹوٹ چکی ہے وہ مزید پِس کر رہ جائیں گے۔ صنعت و تجارت پر اِس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے اور صنعتکار حاصل شدہ آرڈرز کو مکمل کرنے میں ناکام ہوجائیں گے جو زرمبادلہ میں بھی کمی کا باعث ہوگا۔ حکومت نے اپنے ناتجربہ کار اور ناعاقبت اندیش مشیروں کے مشوروں پر عملدرآمد کرتے ہوئے ماہانہ 100 مکعب میٹر پر فی یونٹ 127 سے بڑھا کر 300 روپے، 200 مکعب میٹر پر 264 سے بڑھا کر 553 روپے، 300 مکعب میٹر پر 275 سے بڑھا کر 738 روپے، 400 مکعب میٹر پر 780 سے بڑھا کر 1107 روپے جبکہ 400 مکعب میٹر سے زائد گیس استعمال پر قیمت 1460 روپے برقرار رکھی ہے جبکہ کارخانوں پر بطور فیڈ گیس کی قیمت میں 61 فیصد اور بجلی کے کارخانوں، سی این جی، جنرل انڈسٹری کے لیے تمام شعبوں میں 31 فیصد قیمت بڑھادی گئی ہے جس سے انڈسٹری اور گھریلو صارفین پر اِس کا بوجھ ناقابل برداشت ہوجائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ اِس سے سی این جی اسٹیشن کے دیوالیہ ہونے اور بے روزگاری میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔ نتیجتاً گیس چوری بڑھ جائے گی، ایل این جی پر درآمد ڈیوٹی عائد کرنے سے ایندھن مہنگا ہوجائے گا، اِس اضافے سے زراعت کا شعبہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہے گا۔ لہٰذا اُنہوں نے ملک وقوم صنعت و تجارت کے مفاد کا خیال رکھتے ہوئے وفاقی حکومت خاص طور پر وزیر اعظم عمران خان، وزیر انرجی و پاور عمر ایوب خان اور مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گیس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کا نوٹیفکیشن واپس لے کیونکہ پہلے بھی اُن کے دورِ حکومت میں گیس کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں اَب اِن میں دوبارہ اضافہ ظلم و زیادتی کے مترادف ہوگا۔