سوڈان میں تشدد کی تازہ لہر،10 مظاہرین جاں بحق

242
خرطوم: فوجی حکومت کے خلاف عوام احتجاجی ریلی نکال رہے ہیں‘ شہید ہونے والے مظاہرین کی لاشیں منتقل کی جارہی ہیں
خرطوم: فوجی حکومت کے خلاف عوام احتجاجی ریلی نکال رہے ہیں‘ شہید ہونے والے مظاہرین کی لاشیں منتقل کی جارہی ہیں

 

خرطوم (انٹرنیشنل ڈیسک) سوڈان میں عبوری عسکری کونسل کے خلاف احتجاج کے بعد تشدد کی تازہ لہر شروع ہوگئی ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق پیر کے روز ہلاک ہونے والے مظاہرین کی تعداد بڑھ کر 10 تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے قبل اتوار کے روز ہونے والے احتجاج میں فوج نے مظاہرین پر اندھادھند گولیاں برسائی تھیں، جس کے بعد وزارت صحت نے رات گئے 7 افراد کے مارے جانے کی تصدیق کی تھی۔ جب کہ پیر کی صبح خرطوم کے نواحی شہر ام درمان میں دریائے نیل سے مزید 3 لاشیں برآمد ہوئیں، جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 10 تک پہنچ گئی۔وزارت صحت کے مطابق فوج اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 181 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 27کو براہِ راست گولیاں لگیں۔ زخمیوں میں 10 فوجی بھی زخمی ہوئے۔ خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سیکورٹی فورسز نے صدارتی محل کے پاس اور خرطوم کے 3 مختلف اضلاع میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کا استعمال کیا۔ اشک آور گیس کا استعمال ام درمان اور القضارف شہر میں بھی کیا گیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ ایک عوامی حکومت چاہتے ہیں، جو ہماری آزادی کی ضامن ہو۔ ہم فوجی آمریت سے چھٹکارا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب عبوری عسکری کونسل نے اس تشدد اور ہلاکتوں کا الزام الٹا اپوزیشن پر تھونپ دیا ہے۔ کونسل نے ایک بیان میں کہا کہ ’’آزادی اور تبدیلی قوتوں‘‘ نے اپنی پاسداریوں کو چھوڑ کر اشتعال انگیزی پھیلائی۔ پیر کے روز کونسل کے ترجمان کی زبانی جاری ایک بیان میں احتجاجی ریلیوں کے دوران جانی نقصان کا ذمے دار انقلابیوں کے اتحاد ’’آزادی اور تبدیلی قوتوں‘‘ کو ٹھہرایا۔ کونسل نے الزام عائد کیا کہ آزادی اور تبدیلی قوتوں نے خرطوم میں مظاہرین کو اس بات پر اکسایا کہ وہ اپنی ریلیوں کا رخ جمہوری محل کے جانب کر دیں۔ عسکری کونسل نے کہا کہ سیکورٹی فورسز شہریوں پر حملے اور ان کو نشانہ بنانے کے رجحان کی کسی طور اجازت نہیں دیں گی۔ جب کہ سوڈان کی بڑی سیاسی جماعت حزب الامہ نے کہا ہے کہ جماعت ملک تبدیلی کے لیے جاری مظاہروں سے الگ نہیں بلکہ ان میں شامل ہے۔ حزب الامہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے کہا کہ ملک کے مختلف شہروں میں جاری مظاہروں میں جماعت بھرپور طریقے سے شرکت کررہی ہے۔ خیال رہے کہ سوڈان میں عوامی حکومت کی بالادستی کے لیے ملک گیر احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ اتوار کے روز ہونے والے ملین مارچ کا مقصد فوجی حکمرانوں کے سامنے عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنا تھا۔ اس سے قبل 3 جون کو جمہوریت کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں کے احتجاجی کیمپ پر فوجی کریک ڈاؤن میں درجنوں افراد ہلاک اور سیکڑوں دیگر زخمی ہو گئے تھے۔ سوڈان میں سابق صدر عمر البشیر کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اقتدار پر فوج کا قبضہ ہے، جب کہ اپوزیشن اقتدار سیاسی جماعتوں کے حوالے کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔ احتجاج کا سلسلہ گزشتہ سال دسمبر میں شروع ہوا تھا۔ اس وقت مظاہرین ملک میں معاشی بحران کے باعث 30 سال سے اقتدار پر موجود صدر عمر البشیر کے خلاف سراپا احتجاج تھے۔