دھمکی کے بعدحفتر ملیشیا نے ترک شہری رہا کردیے

150

 

طرابلس (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکی کی جانب سے دھمکی کے بعد لیبیا کی باغی ملیشیا نے 6 تُرک شہریوں کو رہا کر دیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق ان ترک شہریوں کو باغی جنرل خلیفہ حفتر کی حامی ملیشیا نے اغوا کر رکھا تھا۔ باغیوں نے ان تُرکوں کو اس لیے پکڑا تھا کہ انقرہ حکومت لیبیا میں خلیفہ حفتر کی مخالف اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتی ہے۔ پیر کے روز تُرک وزارتِ خارجہ کے ایک ذریعے نے بتایا کہ رہا کیے گئے تُرک شہری جہاز رانی کے شعبے سے وابستہ ہیں اور رہائی کے بعد لیبیا ہی میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا خواہاں ہیں۔ اتوار کے روز تُرک وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ اگر اس کے شہریوں کو رہا نہ کیا گیا تو انہیں خلیفہ حفتر کی ملیشیا پر حملے کرنے کا حق حاصل ہو گا۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ حفتر سے منسلک غیر قانونی ملیشیاؤں کی جانب سے 6 ترک شہریوں کو یرغمال بنانا ڈکیتی اور ایک نازیبا حرکت ہے۔ ہم اپنے شہریوں کی فی الفور رہائی کی توقع رکھتے ہیں۔ ورنہ ہم حفتر کے عناصر کو ہدف بنانے میں حق بجانب ہوں گے۔ ترکی کے نائب صدر فواد اکتائی نے بھی کہا تھا کہ اگر ترک شہریوں کو فوری طور پر رہا نہ کیا گیا تو اس کے نتائج سخت ہوں گے۔فواد اکتائی نے کہا تھا کہ لیبیا میں موجود تُرک شہریوں کے ساتھ رابطہ کیا گیا ہے اور ان کی صحت تسلی بخش ہے۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ ترکی اپنے تمام اداروں کے ساتھ اپنے شہریوں کی سلامتی اور حقوق کے تحفظ کے معاملے میں پُر عزم ہے، خواہ وہ شہری دنیا کے کسی بھی گوشے میں ہوں۔ اس سے قبل خلیفہ حفتر نے بھی ترکی کوا پنا دشمن قرار دیا تھا۔ لیبیا میں سابق آمر معمر قذافی کی ہلاکت کے بعد سے مسلح دھڑے ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ خلیفہ حفتر کے حامی دستے ملک کے مشرقی حصے میں کئی علاقوں پر قابض ہیں اور ان حصوں میں کسی پرواز کی بھی اجازت نہیں۔