سکھر صفائی کی ابتر صورتحال نکاسی آب کا نظام درہم برہم شہری پریشان

204

سکھر (نمائندہ جسارت) صفائی ستھرائی کی ابتر صورتحال، مفلوج نکاسی نظام، ٹوٹی پھوٹی شاہراہوں اور ان سے اڑنے والی دھول مٹی کے خلاف قریشی گوٹھ کے مکینوںکی جانب سے سکھر ڈیولپمنٹ الائنس کے چیئرمین حاجی محمد جاوید میمن کی قیادت میں قریشی گوٹھ چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ جس میں مولانا عبیداللہ بھٹو، غلام مصطفی پھلپوٹو، آغا طاہر مغل، کامریڈ امام الدین، نعیم بلوچ، مدثر چاچڑ، و دیگر نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین نے شہر کے منتخب نمائندوں، انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے لگائے شرکا نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے ہوئے تھے جن پر میئر ہٹائو سکھر بچائو، سکھر کو کھنڈر بنانے والے منتخب نمائندوں کا احتساب کرو کے نعرے درج تھے۔ اس موقع پر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے حاجی محمد جاوید میمن و دیگر رہنمائوں کا کہنا تھا کہ سندھ کا تیسرا بڑا شہر مسائلستان بن چکا ہے، بالخصوص قریشی گوٹھ کی حالت زار انتہائی خراب مین شاہراہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، گٹروں اور نالیوں کا گندا پانی کئی سالوں سے سڑکوں پر جمع ہے جس کی نکاسی کیلیے میئر سکھر کی جانب سے کوئی بھی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔سکھر شہر کی تعمیر و ترقی کے نام پر منتخب نمائندوں کی جانب سے ریکارڈ کرپشن کی گئی ہے، جس کے باعث آج سندھ کا تیسرا بڑا شہر کھنڈر بن چکا ہے، شہر کے اہم ترین روڈ قریشی روڈ سمیت دیگر روڈ راستے تباہ ہوچکے ہیں، سڑکوں سے اڑنے والی دھول مٹی کے باعث شہری تیزی سے موذی امراض میں مبتلا ہورہے ہیں، اربوں کے فنڈز موصول ہونے کے باوجود آج بھی شہری پینے کے پانی کی بوند بوندکو ترس رہے ہیں، جبکہ قریشی گوٹھ روڈ پر گٹر اور نالیوں کا گندا پانی کئی کئی سال سے کھڑا ہونے سے علاقہ مکین شدید پریشانیوں سے دوچار ہیں، جس کے حل کیلیے شہر کے منتخب نمائندوں، میئر، ڈپٹی میئر کی جانب سے کسی بھی قسم کے اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔جبکہ قریشی گوٹھ کاغذی طور پر ریکارڈ میں دو مرتبہ تعمیر ہوچکا ہے، جس پر خطیر رقم خرچ بھی کی گئی ہے، جبکہ حقیقت میں یہ روڈ کئی سال گزرنے کے باوجود ایک مرتبہ بھی تعمیر نہیں ہوا۔ انہوں نے حکومت ، نیب اور دیگر تحقیقاتی اداروںسے مطالبہ کیا کہ اربوں روپے کے فنڈز خرچ ہونے کے باوجود سکھر شہر کی تباہی حالی کا نوٹس لیکر اس میں ملوث منتخب نمائندوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کریں اور شہر کے بنیادی مسائل حل کرنے کیلیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائیں، بصورت دیگر ہم اپنے احتجاج کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے میئر ہٹائو سکھر بچائو مہم کا باقاعدہ آغاز کرکے احتجاجی مظاہروں، دھرنوں، ریلیوں کا آغاز کرینگے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت، منتخب نمائندوں، میئر ، ڈپٹی میئر اور انتظامیہ پر عائد ہوگی۔