بھٹ شاہ حیسکو کی ملی بھگت ،چوری سے ائر کنڈیشن اور ٹیوب ویل چلنے کا انکشاف

125

بھٹ شاہ (نمائندہ جسارت) حیسکو بھٹ شاہ افسران کی ملی بھگت سب ڈویژن میں 5 سو سے زائدچوری سے ائرکنڈیشن اورزرعی ٹیوب ویل چل رہے ہیں فی اے سی ماہوار پانچ ہزار روپے اور گی ٹیوب ویل سے 30ہزار سے 40ہزار تک رشوت وصولی کی جا رہی ہے جبکہ حیسکو عملے نے ان اے سی چوری کرنے والوں کو بوگس میٹر لگا کر دے رکھے ہیں جن کی آڑ بجلی چوری کروا رہے ہیں ہالا گریڈ اسٹیشن کے میٹر پرنصب حیسکو بھٹ شاہ کے میٹر 50 لاکھ یونٹ سے25لاکھ یونٹ لاسز چوری شدہ یونٹوں کو پورا کرنے کے لیے ماہوار ہزاروں صارفین کوبلا جواز بھاری ڈیڈکشن، سلو میٹر، اوور لوڈ، اسپارکنگ سمیت دیگر ٹیکنیکل طریقوں اورمحکمہ اسکارپ و دیگر سرکاری محکموں کے میٹر کے بلوںمیں یونٹ شامل کردیتے ہیں۔بھٹ شاہ حیسکو سب ڈویژن کے افسران و عملے کی ملی بھگت سے حیسکو بھٹ شاہ کے بجلی فیڈر شاہ لطیف، کھنڈو، شاہ حبیب، بھٹ شاہ اور اسکارپ، ٹیوب ویل فیڈر 3 ہیں۔ ذرائع کے مطابق حیسکو عملے کی ملی بھگت سے علاقے کے با اثر افراد کے گھروں، دکانوں، مسافر خانوں سمیت کاروباری و رہائشی مقامات پران فیڈروں پر پانچ سو سے زائد ائرکنڈیشنڈ اور زرعی ٹیوب ویل چوری چل رہے ہیں، ان بجلی چوروں سے ماہوار فی اے سی پانچ ہزار روپے اور ٹیوب ویل سے 30 ہزار سے 40 ہزار تک رشوت وصولی کی جا رہی ہے۔ چوری سے لاکھوں روپے ماہوار وصول ہونے والی رقم کو حیسکو افسران و عملہ آپس میں بندر بانٹ کر لیتا ہے جبکہ مذکورہ فیڈروں سے چوری ہونے والی بجلی کا خمیازہ علاقے کے ہزاروں غریب صارفین کو بلا جواز بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ ہالا گرڈ اسٹیشن پر نصب حیسکو بھٹ شاہ کے میٹر پر ماہوار 50 سے 55 لاکھ یونٹ استعمال ہوتے ہیں جن میں سے تقریباً ماہوار 25 لاکھ یونٹ چوری کے باعث لاسز ہوجاتے ہیں اور ان چوری شدہ یونٹوں کو برابر کرنے کے لیے گرڈ اسٹیشن ایس ڈی او اور دیگر عملے کی ملی بھگت سے حیسکو آپریشن بھٹ شاہ کا عملہ روزانہ بلا کسی وجہ اور غیر اعلانیہ طور پر ملی بھگت کرکے بجلی کی مرمت اور ایمرجنسی کا جواز دکھا کر کئی کئی گھنٹوں تک بجلی کو فیڈر سے بند کروا دیتے ہیں، جس کے باعث گرڈ کے میٹر پر مزید یونٹوں کا اضافہ نا ہوسکے اور اسی وجہ سے ہی مزید اضافی یونٹ استعمال ہونے سے بچ جاتے ہیں، جس کے عوض ہزاروں روپے ماہوار رشوت دی جاتی ہے تو دوسری جانب لاسز شدہ یونٹوں کو پورا کرنے کے لیے میٹر سپروائزر اپنے دیگر عملے کی ملی بھگت سے بھٹ شاہ سب ڈویژن کے مذکورہ پانچوں فیڈروں کے ہزاروں صارفین بلا جواز ڈیڈکشن بلوں، سلو میٹر چلنے، اسپارکنگ، اوور لوڈ استعمال کرنے سمیت علاقے میں لگے اسکارپ ٹیوب ویلوں کے میٹروں اور مختلف درجنوں سرکاری محکموں کے میٹرو ںمیں اوور ریڈنگ اور دیگر ٹیکنیکل طریقوں سے کرکے ان کے کھاتوں میں ڈال کر گرڈ اسٹیشن کے میٹر پر چلنے والی ماہوار یونٹوں کو برابر کر دیتے ہیں۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ چوری کروانے کے لیے ٹیکنیکل طریقے سے حیسکو ریکارڈ پر موجود بجلی کے میٹروں کو حیسکو عملے نے بجلی کے پولوں سے اتار کر رکھ رکھا ہے اور ان کی جگہ پر بوگس میٹر لگا رکھے ہیں جن سے ان بجلی چوروں کو چوری کروائی جا رہی ہے اور ان سے حاصل ہونے والے ماہوار لاکھوں روپے آپس میں بند بانٹ کر لیے جاتے ہیں جبکہ بجلی چوری کی چیکنگ کے لیے آنے والی ٹیموں سے چوری کے لیے لگائے جانے والے میٹروں اور بجلی چوری کو چھپانے کے لیے حیسکو عملہ ماہوار ریڈنگ کے اوقات میں بند رکھے میٹروں کی فوٹو لے کر ریڈنگ لے لیتے ہیں جبکہ ان اصل میٹروں کی حالت ریکارڈ میں عارضی طور پر غیر استعمال شدہ دکھائی جاتی ہے جبکہ چیکنگ ٹیموں کی آمد کی اطلاع پر فوری طور پر بوگس میٹروں کو اتار کر اصل میٹروں کو نصب کر دیا جاتا ہے۔ دوسری جانب بلا جواز ہزاروں صارفین کو ڈیڈکشن اور دیگر طریقوں سے بھاری بلوں کا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے جبکہ ایک طرف محکمہ بجلی کو ماہوار کروڑوں روپے نقصان پہنچا رہا ہے۔