وزیراعظم ہی کے ہاتھ میں اینٹ پتھر ہوں؟

380

 

 

وزیراعظم جناب عمران خان صاحب نے گزشتہ دنوں اپنے رفقا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’اینٹ کا جواب پتھر سے دیں، ٹینشن نہ لیں، بجٹ منظور کرالیا جائے گا، اپوزیشن سو بار احتجاج کرے عوام کی زندگی میں خلل ڈالا تو قانون حرکت میں آئے گا‘‘۔ وزیراعظم صاحب کی اس ہدایت کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں معزز ارکان نے کس طرح سے ایوان کے وقار اور جمہوریت کے احترام کا تماشا بنایا وہ سب قوم کے سامنے ہے، جب کہ سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ جب خود سرکاری بنچوں ہی سے قومی اسمبلی کی کارروائی کو چلانے نہ دیا جائے، اسپیکر اپنی ہی پارٹی کے ارکان کے سامنے مجبور اور بے بس ہوتا ہوا نظر آئے تو اُس کے بعد ایک عام شہری بھی یہ بات اچھی طرح سے سمجھ سکتا ہے کہ ملک کو کس طرف لے جایا جارہا ہے۔ مقررہ مدت میں عام انتخابات نہ کروانا، انتخابات کا شفاف نہ ہونا، انتخابی نتائج کو تسلیم نہ کرنا، منتخب اسمبلیوں کو کام کرنے سے روکنا، اہم فیصلوں اور ایشوز کو منتخب ایوانوں میں زیر بحث لانے کے بجائے بند کمروں میں بیٹھے نامعلوم افراد کی صوابدید پر چھوڑ دینا۔ اس طرح کی صورت حال میں قومی اتحاد اور قومی اتفاق رائے متاثر ہوتا ہے، کشیدگی، تنائو اور ٹکرائو کی سیاست کو موقع ملتا ہے۔ اس طرح کے حالات، واقعات اور حکمرانوں کے احمقانہ فیصلوں ہی نے مشرقی پاکستان کو بنگلا دیش بنانے کے لیے ازخود راستہ بنایا۔
مختلف سیاسی اور دینی جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان ٹکرائو یا تصادم کا ہونا تو سمجھ میں آنے والی بات ہے کیوں کہ کارکن جذباتی اور وفادار ہوتا ہے جو اپنی جماعت کے جھنڈے کے سوا کسی دوسرے کے جھنڈے کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، تاہم لیڈر ہمیشہ بُردبار اور سمجھدار ہوتا ہے وہ جانتا ہے کہ قومی دھارے سے سیاسی دھارے میں کس طرح داخل ہوا جاتا ہے۔ قوموں کی قیادت اور امامت کے لیے اینٹ اور پتھر سے نہیں صبر، برداشت، درگزر اور قربانی سے کام لیا جاتا ہے۔ سب سے اچھی مسکراہٹ وہی ہے جو اپنے مخالف کو دیکھ کر چہرے پر آجائے۔ بدترین سیاسی مخالفین کے درمیان بھی رشتے داریاں اور زاتی مراسم ہوتے ہیں۔ ’’PNA‘‘ کی تحریک میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو پر جب مشکل وقت آیا تو وہ اپنے سیاسی مخالف سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کے پاس اچھر (لاہور) میں اُن کی رہائش گاہ پر چلے گئے۔ پیر صاحب پگارا جو ’’PNA‘‘ کے صدر تھے جب وہ راولپنڈی پہنچے تو بھٹو صاحب ’’PC ہوٹل‘‘ میں ان کمرے میں پہنچ گئے۔ 70ء کے عام انتخابات میں مشرقی پاکستان کے اندر عوامی لیگ اور جماعت اسلامی کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہوا۔ انتخابی نتائج سامنے آئے تو جماعت اسلامی ہار گئی اور عوامی لیگ بھاری اکثریت سے جیت گئی۔ اس پر سب سے پہلے مغربی پاکستان سے مولانا مودودیؒ نے شیخ مجیب الرحمن کو مبارکباد کا پیغام بھیجا۔ خان عبدالولی خان والے سُرخ انقلاب اور سوشلزم کے حامی تھے، جب کہ جماعت اسلامی اِن نظریات کی سخت مخالف اور اسلامی انقلاب کی داعی تھی۔ تاہم جمہوریت کی بالادستی اور آمریت کے خلاف جب بھی اتحاد بنے ان میں جماعت اسالامی اور نیپ ایک ساتھ بیٹھے۔ 1973ء کا متفقہ آئین بھی اسی طرح کی برداشت اور اتفاق رائے کا نتیجہ ہے۔ آغا شورش کاشمیری بھٹو صاحب کے سخت مخالف تھے مگر جب قادیانیوں کو کافر قرار دینے کی تحریک چلی اور بھٹو صاحب لاہور کے گورنر ہائوس پہنچے تو آغا شورش بھی بھٹو صاحب سے ملاقات کرنے کے لیے تشریف لے گئے۔ آغا صاحب صوفے کو چھوڑ کر قالین پر بیٹھ گئے، بھٹو صاحب کھڑے ہوگئے کہ آغا صاحب آپ نے یہ کیا کردیا تو آغا شورش کہنے لگے کہ میرے آقا کے دشمنوں کو جب تک کافر قرار دینے کا وعدہ نہیں کرو گے وزیراعظم صاحب میں صوفے پر نہیں بیٹھوں گا۔ پاکستان قومی اتحاد (PNA) کی قیادت نے امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ مولانا جان محمد عباسی صاحب کو بھٹو صاحب کے مقابلے میں الیکشن لڑانے کا فیصلہ کیا۔ مولانا عباسی صاحب نے فیصلے کی پابندی کی۔ حالاں کہ ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے خاندان خصوصاً سردار پیر بخش بھٹو اور دیگر کے ساتھ مولانا جان محمد عباسی صاحب کے انتہائی دوستانہ اور قریبی تعلقات تھے جو آخر دم تک قائم رہے۔ وزیراعظم بھٹو بھی ضرورت پڑنے پر براہ راست مولانا عباسی صاحب سے بات کرلیا کرتے تھے۔ لیاقت بلوچ صاحب اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ تھے تو ایک مرتبہ حیدر آباد جاتے ہوئے ’’سن‘‘ کے سامنے سے گزرے تو سائیں جی ایم سید سے ملنے چلے گئے۔ جی ایم سید جو سندھی قوم پرست رہنما اور جماعت اسلامی کے سخت مخالف تھے لیاقت بلوچ سے مل کر بہت خوش ہوئے اور ان کی خوب خاطر تواضع کی۔ مولانا مودودیؒ صاحب کے فیض احمد فیض صاحب جیسے لیفٹیننٹ شاعر کے ساتھ ذاتی اور فیملی تعلقات تھے۔ نوابزادہ نصر اللہ خان پاکستانی سیاست کے وہ سنگتراش تھے کہ جنہوں نے کتنے ہی سیاسی اتحاد اپنے ہاتھوں سے بنائے اور پھر پائوں کی انگلیوں سے مٹادیے۔ نوابزادہ نصر اللہ خان کی شخصیت کو تمام دینی اور سیاسی جماعتوں کے اندر یکساں احترام اور اعتماد حاصل تھا۔ نوابزادہ سیاست میں ہمیشہ اصولوں اور مخالفت میں برداشت کو اہمیت دیتے۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر پروفیسر غفور احمد صاحب ذوالفقار علی بھٹو کی آمریت، جنرل ضیا الحق کے مارشل لا، قوم پرستوں اور کامریڈوں کے انتہا پسندانہ خیالات کے زمانے میں وفاقی وزیر، ایم این اے اور سینیٹر رہے۔ قومی سیاست میں آپ کا کردار بہت اہم رہا۔ آئین کی تشکیل اور اتحادی سیاست میں ان کی قیادت اور رہنمائی بہت مفید رہی۔ پروفیسر غفور صاحب کی شخصیت کا سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ وہ اپنے تو اپنے انتہائی مخالف کے نزدیک بھی ایک ہمدرد اور بااعتماد شخص تھے جس کا مشورہ کسی کے لیے بھی نقصان دہ نہیں تھا۔ پروفیسر غفور صاحب اپنی گفتگو میں اس حد تک محتاط رہتے کہ انہوں نے کبھی بھی کوئی کہا ہوا جملہ یا لفظ واپس نہیں لیا۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان محترم قاضی حسین احمد صاحب کا تو کوئی جواب ہی نہیں تھا۔ شفقت اور محبت کا یہ پیکر جب دوستوں کے درمیان ہوتا تو اُن جیسا ہوتا اور جب کسی ظالم اور جابر کو للکارتا تو ایسے لگتا کہ جیسے اب کی بار فیصلہ ہو کر رہے گا۔ قاضی حسین احمد مجاہد اور جہادی تھا وہ عالمی سامراج کے لیے بھی خطرہ تھا۔ وہ عالمی اسلامی تحریکوں کا دوست اور مددگار تھا۔ ملک کے اندر قاضی صاحب نے ہمیشہ برداشت اور بہادری کی سیاست کو فروغ دیا۔ قاضی حسین احمد صاحب کے بھی بدترین مخالفین کے ساتھ بہترین ذاتی تعلقات تھے۔ آپ نے جماعت کی قیادت کو منع کیا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کا نام لے کر غیر ضروری تنقید نہ کی جائے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت پر آپ نہ صرف نوڈیرو تعزیت کے لیے گئے بلکہ محترمہ کی قبر پر بھی فاتحہ خوانی کی۔ اسلامی جمہوری اتحاد، اسلامک فرنٹ اور ایم ایم اے جیسے سیاسی اتحاد قاضی حسین صاحب ہی کی سیاسی بصیرت کا نتیجہ تھے۔ میاں نواز شریف کے والد میاں شریف صاحب کی ذاتی درخواست پر قاضی صاحب نے شریف فیملی کے خاندانی معاملات کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جب کہ خود عمران خان کو سیاست میں لانے کی سب سے زیادہ حوصلہ افزائی قاضی صاحب ہی نے کی تھی۔ میں خود بھی شروع سے اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی سے وابستہ رہے تاہم میری یادگار سیاسی ملاقاتیں وہی ہیں جو میں نے اپنے سیاسی اور نظریاتی مخالفین کے ساتھ کیں۔ نواب اکبر خان بگٹی، نواب خیر بخش مری، نوابزادہ بالاچ مری اور نوابزادہ برامداغ بگٹی کے ساتھ ملاقاتوں میں پائی جانے والی اپنائیت اور احترام کے لمحات ہمیشہ یاد رہیں گے، ان کی شاندار میزبانی اور کھری کھری باتیں کبھی نہیں بھولتیں، حیرت ہے کہ ان کو غدار کیوں کہا گیا۔ نواب بگٹی اور بالاچ مری کا قتل کیوں ضروری سمجھا گیا یہ تو بہت اچھے دوست ہوسکتے تھے۔ کاش کہ ان کو کوئی دوستی کی پیشکش کرتا۔
درج بالا مختصر واقعات کا ذکر کرنا اس لیے ضروری سمجھا گیا ہے کہ ہمارے آج کے حکمران اور سیاسی قیادت اِن سے سبق حاصل کرے، سیاست ایک عبادت بھی ہے اور کھیل بھی۔ کھیل کھیلنے والوں کا کھیل کسی بھی وقت ختم ہوسکتا ہے مگر سیاست کو عبادت سمجھنے والوں کا اجر کبھی ختم نہیں ہوگا۔ عمران خان ملک کے وزیراعظم ہیں، وہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے ضرور کام کریں مگر چہرے پر تھوڑی سی مسکراہٹ بھی لائیں۔ سیاسی مخالفین کے ساتھ ذاتی انتقام جیسا تاثر دینے کے بجائے دوستانہ ماحول پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ محض فنکاروں اور گلوکاروں کے ساتھ دوستیاں کافی نہیں، سیاسی لوگوں کی خوشیوں اور غموں میں شریک ہونا بھی سیکھیں، ویسے بھی ماضی اور حال کے حکمرانوں کے درمیان اختلافات کو محض قومی مفادات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، کسی کی کسی سے کوئی ذاتی عناد یا دشمنی نہیں ہونی چاہیے، کیوں کہ جب ہم سب ملک اور قوم کے لیے کام کررہے ہیں تو پھر اس حد تک مخالفت اور نفرت کیوں کہ ایک دوسرے کے جنازے یا کسی شادی بیاہ کی تقریب میں بھی شریک نہ ہوسکیں۔
اہم قومی معاملات پر حکومت کی جانب سے کوئی ’’آل پارٹیز کانفرنس‘‘ نہ بلانا بھی حکومت کی ناکامی ہے کہ ’’قومی قیادت‘‘ کو حکومت پر اعتماد نہیں رہا اور اس طرح سے وہ حکومت کا کوئی بھی دعوت نامہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
وزیراعظم عمران خان کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اگر وزیراعظم صاحب ہی کے ہاتھ میں اینٹ اور پتھر ہوں گے تو پھر پھول کس کے پاس ہوں گے۔ وزیراعظم اور ان کے ساتھی اینٹ اور پتھر اُٹھا کر اپوزیشن کو کیا پیغام دے رہے ہیں۔ کیا اس طرح سے ملک میں مفاہمت اور بھائی چارے کی فضا پیدا ہوگی یا یہ کہ انتقام کی نہ بجھنے والی آگ بھڑک اُٹھے گی۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان صاحب سے یہ سوال بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ جناب والا آپ اپنے ہم وطنوں پر تو اینٹ اور پتھر برسانے کے لیے ہر وقت تیار کھڑے ہیں مگر پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے وزیراعظم مودی اور ان کے وزرا کے خلاف آپ کو اس قدر غصہ کیوں نہیں آرہا، بھارت کی آبدوز اور مگ جہاز پاکستان پر حملہ کریں مگر آپ حملہ آور پائلٹ اور آبدوز کو بخیر و عافیت واپس جانے دیں اور پھر کہیں کہ یہ جذبہ خیر سگالی ہے، غیرت سے خالی یہ ’’جذبہ خیر سگالی‘‘ آپ کہاں سے ڈھونڈ لائے کہ جو حملہ آور کو سزا دینے کے بجائے اُسے واپس جانے دے رہا ہے۔ بار بار مذاکرات کی پیشکش مسترد ہونے پر آپ کو غصہ کیوں نہیں آتا، یہاں آپ کے ہاتھوں سے اینٹ اور پتھر کیوں گر جاتے ہیں کہ جب بھارت جنگ کی دھمکی دیتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ کرکٹ کا میدان نہیں کہ جہاں چھکے اور چوکے لگائے جائیں یہ اقتدار کا ایوان ہے کہ جہاں مہذب، دھیمی اور نفیس گفتگو کی جائے۔ بشریٰ بی بی کی جھاڑ پھونک سے نہیں وزیراعظم کے انصاف پر مبنی فیصلوں سے ملک چلے گا۔ بحیثیت وزیراعظم اپنے عوام سے وفادار رہنا اور اپنے ہم وطنوں کو عزت اور پیار دیتے رہنا ہی کامیابی اور مقبولیت ہے۔ بصورت دیگر اینٹ اور پتھر کا استعمال جاری رہا تو قومی قیادت میں شاید ہی کوئی ایسا چہرہ بچے جو خون آلود نہ ہوجائے۔
ہم پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے لیے دعاگو ہیں کہ وہ اپنے اخلاق، اصلاحات اور اقدامات سے یہ ثابت کردیں کہ وہ واقعی پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ اللہ رب العزت ہم سب کی مدد و رہنمائی فرمائے۔ آمین ثم آمین۔