آئی ایم ایف سے مقابلہ کیسے کیا جائے

382

 

جاوید اکبر انصاری

تمام دہریہ جماعتوں نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف احتجاج شروع کردیا لیکن مسلم لیگ ،نہ پیپلزپارٹی آئی ایم ایف سے مجوزہ معاہدہ کو رد کرنے کا اعلان نہیں کررہی ہے چوں کہ اپنے دور اقتدار میں مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی نے اس قسم کے معاہدوں پر آئی ایم ایف کی ماتحتی قبول کی تھی ۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ عمران خان کی حکومت پر تنقید تو کی جاسکتی ہے لیکن کوئی دہریہ جماعت آئی ایم ایف کے معاہدہ سے روگردانی نہیں کرسکتی کیوں کہ تمام دہریہ جماعتیں سامراج کی کارفرما جماعتیں ہیں۔
غالب گمان یہی ہے کہ یہ مزاحمتیں ناکام ہوں گی کیوں کہ اولا ان کی پشت پر مقتدرہ کا ہاتھ نہیں اور دوئم کسی دہریہ جماعت میں street power مطلوبہ حدتک متحرک کرنے کی سکت نہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی عوام میں سرمایہ دار ظلم برداشت کرنے کی بہت صلاحیت ہے اور فی الحال انہیں عمران خان کا مدمقابل نجات دہندہ کوئی نظر نہیں آتا ۔
دہریہ جماعتوں کی طرح ہمارے پاس بھی فی الحال street powerموجود نہیں۔نتیجتاً آئی ایم ایف مخالف ہماری مہم بھی بے اثر اور علامتی ثابت ہوگی۔ اس کے باوجود ہمیں یہ مہم ضرور چلانی چاہیے اس کے مثبت نتائج برآمد کرنے کے لیے حکمت عملی مرتب کرنا چاہیے ۔
ہماری street power کی عدم موجودگی کا سبب یہ ہے کہ ہم اپنی ماس بیس سے کٹے ہوئے ہیں یہ ماس بیس ان کروڑوں مخلصین دین پر مشتمل ہے جو پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں، ہمیں اس ماس بیس (mass base)کو یہ احساس دلانا ہے کہ سرمایہ دارانہ ریاستی نظام بتدریج معاشرہ کی اسلامی شناخت کو کھوکھلا کررہاہے اور تحریک انصاف کی حالیہ معاشی پالیسی اس ہی مذموم حکمت عملی کو بروئے کار لارہی ہے ۔
اس کا سب سے بڑا ثبوت سود اور سٹہ کے کاروبار کا وہ غیر معمولی فروغ ہے جو تحریک انصاف کی پالیسیوں میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے حکومتی قرضوں کا حجم بڑھ جائے گا۔
مرکزی سرکار اربوں روپے کے بیرونی قرضے لینے کی خواہاں ہے ،جومجموعی سرکاری قرضہ جات کا بڑا حصہ بنتا ہے ۔ بجٹ کا بہت بڑا حصہ قرضہ و سودی ادائیگیوں میں خرچ ہوگا اور اسٹیٹ بینک کی حالیہ زری پالیسی کے تحت شرح سود میں مستقل اضافہ ہوتا رہے گا۔
ضیا الحق مرحوم کے دور میں سود کے خلاف ایک بھرپور عوامی مہم چلی تھی جس کے نتیجہ میں کچھ علامتی تبدیلیاں رونما ہوئی تھیں آج اس مہم کو دوبارہ زندہ اور فعال کرنے کی ضرورت ہے ۔دہریہ جماعتیں سودی نظام کے تردید کی کبھی بات نہیں کرتیں کیوں کہ وہ سرمایہ دارانہ نظام ہی کی پیدوار ہیں اور ان کے رہنما سود خور اور سٹہ باز ہیں۔ہماری مزاحمتی مہم کا محور(Focus)تردید سود ہونا چاہیے۔
رد سود کی ملک گیر مہم ایک دستخطی اور انگوٹھا چھاپ تحریک کے طور پر چلائی جائے۔کروڑوں افراد سے کئی ماہ تک دستخط لیے جائیں اور رد سود کے یہ عوامی مطالبات میونسپلٹیوں، صوبائی و قومی اسمبلیوں میں پیش کیے جاتے رہیں۔ سودی نظام کی تباہ کاریوں کی وسیع پیمانے پر تشہیر کی جائے ۔اسلامی بینکاری کے نام پر فراڈ کو واضح کیاجائے اور غیر سودی سرکاری اور نجی شعبے کی عملی کار فرمائی کے خدوخال واضح کئے جائیں ۔کوشش اس بات کی ہو کہ مخلصین دین کی صفوں میں یہ تصور عام ہوجائے کہ سودی معیشت کے پھیلائو کے نتیجہ میں حلال رزق کمانا مشکل سے مشکل ہوتا جارہاہے اور سودی نظام کا پھیلائو تمام معاشی ظلم(بالخصوص قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کی بنیاد ی وجہ ہے)
سودی نظام کا سرخیل اسٹیٹ بینک ہے ۔یہ پاکستانی حکومت کا حصہ کم اور آئی ایم ایف کا ذیلی دفتر زیادہ بن گیا ہے ۔اس نے جو مالی پالیسی اختیار کررکھی ہے اسے market based monetary policy کہتے ہیں اور یہی پالیسی پورے معاشی نظام کو سود اور سٹہ کے بازاروں کے ماتحت کررہی ہے۔ اس کا موجودہ گورنر رضاباقر سامراج کا کھلم کھلا آلہ کار ہے ،رضا باقر کی فی الفور برطرفی ہماری دستخطی مہم کا ایک کلیدی عنصر ہونا چاہیے اور اس شخص کی برطرفی کے لیے ہمیں ایڑی چوٹی کا زور لگادینا چاہیے مارکیٹ بیسڈ پالیسی کی معطلی اور قرضہ جاتی منصوبہ بندی (credit planning)کی ترتیب نو کا مطالبہ ہماری جدوجہد کا حصہ ہونا چاہیے ۔قرضہ جاتی منصوبہ بندی (credit planning) کا یہ نظام ملک میں 1975 سے 1989 تک رائج رہا اور اس کے نہایت مثبت اثرات مرتب ہوئے۔
ملک کو سود اور سٹہ کی غلاظت میں ایک ایسی جماعت ڈبورہی ہے جو ریاست مدینہ قائم کرنے کی دعوے دار ہے اور جس میں ہزاروں اسلام سے محبت کرنے والے شامل ہیں اور ان کے صدر عارف علوی کی طرح وہ بھی ہیں جو راسخ العقیدہ اسلامی جماعتوں کو خیر باد کہہ کے اس جماعت سے امیدیں وابستہ کر بیٹھے ہیں، آج ہمیں تحریک انصاف کے ہر اسلام پسند کارکن سے پوچھنا چاہیے کہ یہی تمہاری ریاست مدینہ ہے جہاں مرکزی سود کی شرح 14.5فی صد کردی گئی جہاں سٹہ کے کاروبار پر سے ہر قسم کی پابندی ہٹا ئی جارہی ہے۔ یہی تمہارا رہنما ہے جو پوری دنیا میں بھیک مانگتا پھررہا ہے اور آئی ایم ایف کے اشارہ پر اپنے قریب ترین ساتھیوں کو معطل کرکے سامراج کے پٹھوئوں کے ہاتھ میں ملک کی حکمرانی سونپ رہاہے تمہاری اسلامی غیرت اور حمیت کو کیا ہوگیا ہے کہ اس جیسی منافقانہ جماعت اور قیادت سے اب تک چمٹے ہوئے ہو۔
تحریک انصاف کے اندر ان فیصلوں کے خلاف اسلامی رجحانات کو ہوا دینے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے، اس کے ایک ایک اسلام دوست کارکن سے جواب طلبی۔ اس کے ہرسطح کے نمائندوں کا گھیرا، اس کے مکروہ منافقانہ چہرہ کی بے نقابی، اس کی سامراج پرستی کی تشہیر اس مہم کا لازمی جزو ہونا چاہیے۔ ہم تحریک انصاف کی عوامی بیس(base)کو منتشر کرنے کے لیے اس کے گھنانے جال کی مکمل پردہ کشی کردیں گے۔آج نہیں تو کل تحریک انصاف کو اپنی منافقت کی قیمت ادا کرنی پڑیگی اور اس کے اسلام پسند کارکن اس سے علیحدہ ہوکر اپنے اصل گھر (یعنی راسخ العقیدہ اسلامی جماعتوں میں) واپس آجائیں گے ۔
ردسود کی اس مہم سے ہم اس نظام کو متزلزل کرنے کی امید نہیں رکھتے اپنی ماس بیس کو معاشی بنیادوں پر متحرک کرنا ایک مشکل کا م ہے لیکن mass mobilization یہ ایک گنجائش فراہم کرتی ہے یہ درست ہے کہ مخلصین دین کا ایک بہت بڑا حصہ سود اور سٹہ سے کچھ واسطہ نہیں رکھتا اور باضابطہ (formal) معیشت سے ان کا تعلق بھی واجبی سا ہے لیکن دھیرے دھیرے سود اور سٹہ کے پھیلائو کے ذریعہ باضابطہ (formal)معیشت تمام حلال کاروبار کو اپنی گرفت میں لے رہی ہے۔ رد سود کی مہم کے تناظر میں جو بیداری مخلصین دین کی صفوں میں پیدا ہوا س کو بنیاد بنا کر ہم سود اور سٹہ سے پاک حلال کاروبار کے فروغ کا ایک تنظیمی ڈھانچہ کھڑا کرسکتے ہیں ظاہر ہے کہ یہ کام اسلامی بینک نہیں کرسکتے کیوں کہ وہ تو مسلمانوں کی دولت کو مستقل سود اور سٹہ کی مارکیٹوں میں سموتے رہتے ہیں۔
حلال کاروبار کے فروغ دینے والے تنظیمی نظام کے خدوخال حسب ذیل بیان کیے گئے ہیں۔
کوئی اسلامی جماعت مساجد کی سطح پر مسلمانوں کی بچتوں کو جمع کرنے کی ذمے داری لے۔
یہ رقوم اپنے منافع بخش کاروبار میں لگائی جائیں جو اس ہی جماعت کے معتبر کارکن اور ارکان چلارہے ہوں۔
مشارکت اور مضاربت کی بنیاد پر جماعت حاصل شدہ منافع تقسیم بھی کرے ۔
اور شرکا کی رضامندی پر اس منافع کا کچھ دوسرے کامیاب کاروبار میں لگائے ۔
(تفصیل اس اجمال کی جناب یونس قادری کی ایم فل مقالہ’’اسلامی بینکاری کا متبادل‘‘جوکراچی یونیورسٹی نے منظور کی ،میں دیکھی جاسکتی ہے)
کئی اسلامی ممالک اور مفتوحہ علاقوں کے تجربہ کے مطابق چھوٹے پیمانے پر شروع ہونے والا یہ کام بہت تیزی سے پھیلتا ہے اور اس سے مخلصین دین کی معاشرتی اورر یاستی قوت میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے ۔اسلامی جماعتوں کے ماس بیس منظم اور متحرک کرنے کا یہ ایک کارآمد طریقہ ہے ۔
ہماری ر دسود کی تحریک مدافعانہ ہوگی لیکن اگر اس کی بنیاد پر ایک اسلامی نظام تمویل کی جدوجہد کی جاسکے تو یہ اقدامی بھی بنائی جاسکتی ہے اور آئندہ سالوں میں ان شاء اللہ ہمارے اسٹریٹ پاور کے احیا میں ایک اہم کردار ادا کرے گی۔