مسئلہ کشمیر، جہاد اور جماعت اسلامی (باب ہشتم)

217

 

مولانا مودودیؒ نے حمد و ثنا کے بعد پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خاں کے قتل پر اظہار افسوس کیا اور اسے ملک و قوم کے لیے باعث نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ: ہم اس بات کے معترف ہیں کہ انہوں نے بڑے نازک زمانے میں ملک کے نظم و نسق کی ذمہ داری سنبھالی اور اس نوزائیدہ مملکت کو مضبوط بنیادوں پر قائم کرنے کی پوری کوشش کی۔ اس کار عظیم میں ان کی محنت‘ جانفشانی کا اعتراف ہر وہ شخص کرچکا ہے‘ جس نے پچھلے سوا چار سال کی مشکلات کو دیکھا ہے۔اس اندوہناک واقعے میں ہم سب کے لیے ایک اخلاقی سبق بھی ہے۔ اس سے پہلے ایک سازش کے تحت فوجی انقلاب کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش بھی کی گئی ہے اور اب ہمارے سامنے ملک کے سب سے بڑے ذمہ دار سیاسی لیڈر کو علی الاعلان قتل کردیا گیا۔ حکمت بہرحال مومن کی کھوئی ہوئی متاع ہے۔ جہاں سے بھی یہ ملے اسے لے لینا چاہیے۔ ہمارے لیے برطانوی قوم کے طرز عمل میں ایک سبق موجود ہے۔ وہاں کوئی فوجی یا غیر فوجی سازش نہیں ہوتی۔ وہاں رائے عامہ کا بہت احترام ہے وہاں کبھی یہ خطرہ لاحق نہیں ہوتا کہ انتخابات میں کوئی بااختیار شخص یا گروہ اپنے اختیارات سے ناجائز فائدہ اٹھاکر رائے عامہ کے برعکس بھی جبری انقلاب یا سیاسی قتل و غارت گری کے ذریعے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرلے گا۔ وہاں ہر سیاسی تغیر پرامن طریقے سے رائے عامہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں بھی ایسا ہوجائے اور سازشوں اور خفیہ اور مجرمانہ اقدامات کے محرک اسباب کی جڑ کاٹ دی جائے۔
خارجی مسائل
انگلستان اور فرانس ایک عرصہ دراز سے ایران‘ مصر اور افریقہ کے ممالک سے دست درازی کرتے آئے ہیں۔ پچھلی جنگ عظیم سے ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ ان ظالم قوتوں کا زور ٹوٹ گیا ہے‘ جو دنیا بھر کے لیے بلائے بے درماں بنی ہوئی تھیں۔ مغلوب اور مظلوم قومیں اپنے جائز حقوق اور آزادی کے لیے جدوجہد کررہی ہیں۔ ہماری ساری ہمدردیاں ان مظلوم قوموں کے ساتھ ہیں۔ ایران اور مصر نے ظالم قوتوں سے کئے گئے غیر مساویانہ اور ظالمانہ معاہدوں کی یک طرفہ تنسیخ کا جو اقدام کیا ہے‘ وہ بالکل درست ہے۔
کمیونزم پھیلنے کا خطرہ
برطانیہ‘ امریکا اور فرانس نے مشرق وسطیٰ کے اسلامی ملکوں میں جو پالیسیاں اپنائی ہوئی ہیں‘ عرب ملکوں کے سینے میں اسرائیل کا خنجر بھونکا ہوا ہے‘ نہر سوئز پر جبری معاہدے سے زبردستی قبضہ کیا ہوا ہے۔ ایران کے پیٹرول پر بدستور قابض رہنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ الجزائر‘ مراکش اور تیونس پر فرانس بدستور قبضہ جمائے ہوئے ہے۔ ان تمام ملکوں میں اپنے حقوق اور آزادی کے لیے بیداری کی تحریکیں پیدا ہوچکی ہیں اور ان بڑی طاقتوں کی ظالمانہ پالیسیوں سے اس ملک کو کمیونزم اور روس کی جانب دھکیلے جانے کے خطرات بہت بڑھ گئے ہیں۔ ان ممالک میں اسلام کے احیا اور اسلامی نظام زندگی کی تجدید و ترویج کی متعدد تحریکوں کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں اور ان شاء اللہ ان سے ہر ممکن تعاون کریں گے۔ اس وقت اینگلو امریکن بلاک اور کمیونسٹ بلاک کے مابین عالمگیر کشمکش سے ایک اور جنگ عظیم کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ ہمیں اس سے بے تعلق اور غیر جانبدار رہنا چاہیے۔
(جاری ہے)