عوام دشمن بجٹ کی حمایتی ایم کیو ایم کراچی سے کھلواڑ کر رہی ہے، سعید غنی

97

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ پانی کی قلت صرف کراچی نہیں ملک بھر میں ہے۔ ایم کیو ایم کو پانی کے ساتھ ساتھ مہنگائی، گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافے پر بھی احتجاج کرنا چاہیے۔ واٹر بورڈ میں موجود ایم کیو ایم کے کارکنان شہر میں پانی کے ترسیلی نظام کی تباہی کے ذمے دار ہیں۔ یہ بات انہوں نے پیرکے روز ایم کیو ایم کی جانب سے کیے جانے والے احتجاج کے ردعمل میں کہی۔ سعید غنی نے کہا کہ اس وقت ملک بھر میں پانی کی قلت ہے اور خود ایم کیو ایم والوں کو بھی اس کا علم ہے کہ کراچی میں طلب کے مقابلے رسد کی کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیو ایم نے آدھی وزارت کی امید پر عوام دشمن بجٹ کو ووٹ دیا اور اب وہ پیٹرول، ڈیزل، بجلی، گیس اور دواؤں سمیت ضروریات زندگی کی بڑھتی قیمتوں سے توجہ ہٹانے کے لیے احتجاج کے ڈرامے کررہی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ ایم کیو ایم اس وقت پی ٹی آئی کی بی ٹیم کا کردار ادا کررہی ہے اور ان کے رابطہ کمیٹی کے ارکان اور کارکنان واٹر بورڈ سمیت دیگر اداروں میں موجود ہیں اور وہ پانی کے ترسیلی نظام اور شہر کے نظام کو خراب کررہے ہیں۔ انہوں نے ایم کیو ایم سے سوال کیا کہ وہ اپنے رابطہ کمیٹی کے رہنماؤں کو ان مقامی اداروں میں نوکریوں پر کیوں نہیں بھیجتے اور اپنے ارکان اور کارکنوں کو پانی کی ترسیلی نظام میں خلل ڈالنے سے کیوں نہیں روکتے۔ سعید غنی نے کہا کہ کراچی میں پانی کے ترسیلی نظام کو متاثر کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ سعید غنی نے مزید کہا ہے کہ کراچی کے اداروں کی تباہی کی ذمے دار ایم کیو ایم ہے اور کراچی کے عوام ان کے اس اوچھے ہتھکنڈوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کراچی کے شہریوں پر رحم کرے اور پانی و سیوریج کی لائنوں کو بند کرنا چھوڑ دے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ میں گذشتہ کئی روز سے اس بات کا برملا اظہار کررہا ہوں کہ کراچی میں پانی کی تقسیم کی راہ میں ایم کیو ایم رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت میں وزارتوں کے مزے لینے والے ایم کیو ایم کے ارکان کیوں کے فور کے لیے رقم اور اضافی پانی کی فراہمی کے لیے آواز بلند نہیں کرتے۔ سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کے فور منصوبے پر مکمل طور پر کام کررہی ہے لیکن وفاق سے فنڈز کی عدم دستیابی کے فور سمیت کئی منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے اور ایم کیو ایم جو اس وقت وفاق میں ان کی حصہ دار ہے اس پر مکمل خاموش ہے۔