مساجد ‘مدارس اور منبر و محراب اسلام دشمنوں کو کھٹکتے ہیں، لیاقت بلوچ

251

لاہور (نمائندہ جسارت) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اور ملی یکجہتی کونسل کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے چاروں مسالک کے بورڈ کے عہدے داران اور علما کے اعزاز میں اپنی رہائش گاہ پر ناشتے کا اہتمام کیا ۔ جس میں دیو بندی ، بریلوی ، اہل حدیث اور اہل تشیع مسالک کے قائدین نے شرکت کی ۔ لیاقت بلوچ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مساجد ، مدارس اور منبر و محراب اسلام دشمن قوتوں کو کھٹکتے ہیں اور یہی اہل ایمان کی بڑی طاقت ہیں ۔عوام معاشی ، سیاسی اور سماجی و تہذیبی بحران کاشکار کر دیے گئے ہیں ۔ ان حالات میں علما ، اساتذہ اور خطیب ، واعظین و ذاکرین اتحاد ، وحدت اور یکجہتی کا کلیدی کردار ادا کریں ۔ ایک سازش اور استعماری ایجنڈے کی تکمیل کے لیے ریاست مدینہ کے نظام کے نعرے کی آڑ میں پاکستان کو سیکولر ، لبرل اور مادر پدر آزاد ی و بد تہذیبی کا مرکز بنایا جارہا ہے۔ قادیانی اپنی آئینی حیثیت تسلیم کرلیں تو سب مسائل حل ہو جائیں ، قادیانی غیر مسلم ہیں ۔ تحفظ ناموس رسالت ؐہمارا ایمانی فریضہ ہے ۔ جماعت اسلامی ، اسلامی اقدار اور اسلامی قوانین کی حفاظت کے لیے ہر قربانی دے گی ۔علاوہ ازیں لیاقت بلوچ نے جے آئی یوتھ کے نمائندہ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ سیاسی وفاداریاں بدلنے والے سیاست کا ناسور ہیں ۔ انتخابات سے پہلے بھی وفاداریاں تبدیل کرا کے نا م نہاد الیکٹ ایبلز کو عمران خان کی جھولی میں ڈالا گیا اب بھی چھانگا مانگا ، سندھ ہائوس اور مالم جبہ کی بدبودار اور قابل نفرت سیاست دہرائی جارہی ہے ۔ سیاسی بے وفا ، مفاد پرست ، بزدل ارکان ہمیشہ حکومتوں کے زوال کا باعث بنتے ہیں۔ پارٹیاں چھوڑنے والے بھی بے شرم اور ملاقات اور قبول کرنے والوں کی بھی بے شرمی کی انتہا ہے ۔ سیاست ،جمہوریت اور پارلیمانی نظام وفاداری ، اہلیت ، استقامت اور امانت و دیانت سے ہی مضبوط ہوسکتا ہے۔ وفاقی اور صوبائی بجٹ آئی ایم ایف کا روڈ میپ ہیں ، مہنگائی بے روزگاری کا سونامی تباہی لائے گا ۔