زرداری پارک لین کیس میں بھی گرفتار،سراج درانی کیخلاف ریفرنس سماعت کیلئے منظور،راجا پرویز اشرف پر فرد جرم

172

اسلام آباد/ کراچی / ٹنڈوجام (آن لائن+ اسٹاف رپورٹر+ نمائندہ جسارت) قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو پارک لین کیس میں بھی گرفتار کرلیا، بلاول بھٹو اور آصف زرداری پر 2 ارب روپے کی زمین صرف 6 کروڑ روپے میں خریدنے کا الزام ہے۔ ادھر احتساب عدالت نے رینٹل پاور پروجیکٹ کے2 الگ الگ ریفرنسز میں راجا پرویز اشرف کیخلاف فردجرم عایدکردی پرویزاشرف کی عدم موجودگی پرعدالت برہم، آئندہ سماعت پرپیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے شہادتیں طلب کرلیں،جبکہ جسمانی ریمانڈ کے دوران قومی احتساب بیورو کی تفتیش کے دوران سوال کے جواب میںفریال تالپور نے زرداری گروپ کے جوائنٹ وینچر سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کردیا۔ ادھر ٹنڈوجام میں شرجیل میمن کے فارم ہاؤس پر پھر نیب نے چھاپہمارا اور زرداری کی زمینوں کے متعلق معلومات حاصل کیں۔ تفصیلات کے مطابق پیر کے روز نیب نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں زیر حراست سابق صدر آصف زرداری کی دوسرے کیس میں بھی گرفتاری ظاہر کردی۔ آصف زرداری احتساب عدالت میں پیش ہوں گے تو نیب کی جانب سے پارک لین کیس میں بھی ان کا جسمانی ریمانڈ طلب کیا جائے گا۔ آصف زرداری اور ان کے بیٹے بلاول پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی کمپنی پارک لین اسٹیٹس پرائیوٹ لمیٹڈ کے ذریعے 1994ء سے 2009ء کے دوران اسلام آباد کی بیش قیمت 2460 کنال زمین صرف 6 کروڑ 20 لاکھ روپے میں خریدی تھی جبکہ اس کی قیمت 2 ارب روپے سے بھی زیادہ تھی۔ یہ سودا پاکستانی نژاد امریکی شہری محمد ناصر خان کے ذریعے کیا گیا جسے آصف زرداری کا فرنٹ مین قرار دیا گیا تھا۔ آصف زرداری پر الزام ہے کہ انہوں نے یہ ڈھائی ہزار کنال زمین زبرستی حاصل کی اور وہاں سے 300 خاندانوں کو بے دخل کیا۔ یہ زمین وہاں کے مالکان سے 4 ہزار روپے فی کنال کے حساب سے حاصل کی گئی تھی۔ یاد رہے کہ آصف زرداری جعلی بینک اکاؤنٹس اور میگا منی لانڈرنگ کیس میں پہلے ہی گرفتار ہیں۔ علاوہ ازیں کراچی میں احتساب عدالت نے ریفرنس سماعت کے لیے منظور نہ کرنے سے متعلق آغا سراج درانی کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے آغا سراج درانی کی درخواست مسترد کردی اور آمدن سے زاید اثاثے بنانے کا ریفرنس باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرلیا، نیب ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ ریفرنس میں 62 گواہوں کے نام شامل ہیں 5 ہزار سے زاید دستاویزات ہیں جو بطور شواہد پیش کی گئیں، آغا سراج درانی اور دیگر کے خلاف ایک ارب 61 کروڑ روپے کرپشن ریفرنس بنایا گیا ہے، ریفرنس میں آغا سراج دورانی کی اہلیہ ، 4 بیٹی ، 1 بیٹا ، بھائی اور ملازمین سمیت 20 ملزمان نامزد ہے ،عدالت نے مزید سماعت 12 جولائی تک ملتوی کردی۔سماعت کے بعد آغا سراج درانی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت کو گھر بھیجنے کی کوشش کی گئی تو ہم مزاحمت کریں گے۔ مزید برآںاسلام آبادکی احتساب عدالت نمبر2نے سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف وغیرہ کیخلاف رینٹل پاور پروجیکٹ کے2 الگ الگ ریفرنسز میں فردجرم عاید کرتے ہوئے آئندہ سماعت پرشہادتیں طلب کرلیں۔ راجا پرویزاشرف کی عدم موجودگی پرعدالت نے سخت برہمی کااظہارکرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام ملزمان آئندہ سماعت پرعدالت حاضری کویقینی بنائیں، عدالت نے سماعت 7اگست تک ملتوی کردی۔واضح رہے کہ 2 ریفرنسز میں ریشماں اورگلف پاورپروجیکٹ شامل ہیں جن میں 15ملزمان نامزدہیں۔ادھر کراچی میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور جسمانی ریمانڈ کے دوران قومی احتساب بیورو کی تفتیش کے نکات منظر عام پر آگئے، نیب کے تفتیش کاروں فریال تالپور سے سوال پوچھا کہ کیا آپ نے جعلی اکاؤنٹس سے 3 کروڑ روپے لے کر اویس مظفر کو دیے، فریال تالپور نے جواب میں کہا کہ مجھے گنے کی فصل کی ادائیگی ہوئی، معلوم نہیں تھا رقم جعلی اکاؤنٹس سے آ رہی ہے۔ نیب حکام نے سوال پوچھا کہ گنے کی فصل کی رقم کس شوگر مل نے ادا کی، پیپلز پارٹی کی رہنما نے جواب میں کہا کہ رقم عبدالغنی مجید نے دی لیکن یاد نہیں کس شوگر مل سے آئی۔ فریال تالپور نے ایک سوال کے جواب میں زرداری گروپ کے جوائنٹ وینچر سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا۔ان کا کہنا تھا ناصر عبداللہ، یونس کوڈواوی اور حسین لوائی اور پارک لین اسٹیٹ پرائیویٹ لمیٹڈ سے کوئی تعلق نہیں۔ نیب نے استفسار کیا اویس مظفر نے 3 کروڑ کیش کرائے تاکہ مشکوک ٹرانزیکشن کی ٹریل توڑی جائے، فریال تالپور کا کہنا تھا زرداری گروپ کی دستخط شدہ چیک بْک ابوبکر زرداری کے پاس ہوتی تھی۔ مزید برآں ٹنڈو جام راہوکی پر رکن صوبائی اسمبلی شرجیل انعام میمن کے فارم ہاؤس پر 18 روز بعد پر نیب نے پھر چھاپہ مارا ، ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ نیب کی ٹیم نے راول فارم ہاؤس کی ایک بار پھر پیمائش کی ہے کہ یہ فارم ہاؤس کتنے ایکڑ زمین پر واقع ہے اور یہ پہلے کس کی ملکیت رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق فارم ہاؤس پر موجود بھینسوں کی بھی گنتی کی گئی اوریہ بھینس کس نسل اور مالیت کی ہیں اس کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی گئیں۔ ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ فارم ہاؤس پر موجود ان کے برادر نسبتی اور دیگر ملازمین سے پوچھ گچھ کی گئی اور آصف علی زرداری کی یہاں پر موجود زرعی اراضی کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی گئیں۔دریں اثناء اسلام آباد کی احتساب عدالت کے ایڈمنسٹریٹوجج محمدبشیر نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتارملزمان حسین لوائی اور طحہ رضا کے جسمانی ریمانڈ میں 7 روزکی توسیع کردی۔ گزشتہ روز ریمانڈختم ہونے پر نیب حکام نے د ونوں ملزمان عدالت پیش کرتے ہوئے مزید تفتیش کے لیے14 روزہ ریمانڈکی استدعاکی تھی ۔