خیرپور،عریشہ کالونی کے مکینوں کا قبضہ مافیا کے خلاف احتجاج

148

خیرپور(نمائندہ جسارت) عریشہ کالونی کے مکینوں سکندر شیخ،غلام مرتضیٰ برڑو ایڈوکیٹ،بشیر احمد و دیگرنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے مقامی ڈاکٹر مختار کلہوڑو پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے عریشہ کالونی میں رفاعی پبلک پارک،اسکول اور مسجد کے پلاٹ پر مبینہ قبضہ کرکے وہاں پر تعمیراتی کام شروع کردیا ہے جس کی وجہ سے وہاں کے رہائشی تفریح گاہ اور عبادت گاہ سے محروم ہوگئے ہیں ۔ مظاہرین نے بتایاکہ کہ 20 برس قبل جب ریشہ کالونی کا نقشہ تیار کیا گیا تھا اس وقت عریشہ کالونی میں رفاعی پبلک پارک،اسکول اور مسجد کے پلاٹ مختص کیا گیا تھا پارک کے پلاٹ پربچوں کے لیے جھولے بھی نصب کیے گئے تھے۔مظاہرین کا کہنا تھاکہ مقامی ڈاکٹر مختار کلہوڑو کو سیاسی افراد کا آشیرباد ومقامی پولیس کی سرپرستی حاصل ہے جس کی بنا پرمسجد،پبلک پارک اور اسکول کے پلاٹ پر قبضہ کرکے تعمیراتی کام شروع کردیا ہے اگر روکا نہیں گیا تو پھر علاقے میں انتشار اور خون ریزی کا امکان ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھاکہ پلاٹ پر قبضے کا معاملہ عدالت میں بھی چل رہا ہے اور سابقہ ڈپٹی کمشنر خیرپورنے عریشہ کالونی میں رفاعی پلاٹ پر قبضہ کرکے تعمیراتی کام روک کر پلاٹ کو سیل کردیا گیا تھا۔ڈاکٹر مختار کلہوڑو نے چھٹی کے دن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پلاٹ پر تعمیراتی کام شروع کردیا ہے جس کی وجہ سے علاقے کے مکینوں میں غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس پاکستان، آرمی چیف،کورکمانڈر کراچی کورکمانڈر پنو عاقل، آئی جی سندھ،ڈی جی رینجرز،ڈی آئی جی سکھر سمیت دیگر حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ رفاعی اسکول،مسجد اور پبلک پارک پر قبضہ وا گزار کرایا جائے بصورت دیگر خونی تصادم کا خطرہ ہے ۔ادھر ڈاکٹر مختار کلہوڑو نے میڈیا کو بتایاکہ انہوں نے کسی بھی پلاٹ پر قبضہ نہیں کیا ہے چند لوگ ان کے خلاف واویلا کررہے ہیں جبکہ انہوں نے عریشہ کالونی کے بانی احمد علی جمانی سے پلاٹ خریدا ہے جس کے قانونی حقوق ان کے پاس محفوظ ہیں چند افراد نے ان سے بھتا وصول کرنے کیلیے ان کیخلاف عدالت میں بھی کیس کیا تھا جس میں وہ عدالت سے کیس جیت چکا ہے جس کے بھی ثبوت ان کے پاس موجود ہیں ۔